علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی اور آفاقی پیغامِ انسانیت

علامہ اقبال کی آفاقی فکر
تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز)، پشاور
ای میل: ziaulhaqsarhadi@gmail.com
شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء بمطابق 3 ذوالقعدہ 1294ھ کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ اقبال نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے میں جو کلیدی کردار ادا کیا ہے، اسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا، جس کو شرمندۂ تعبیر قائداعظم نے کیا۔ اقبال کے فلسفے اور نظریات ہی کا ثمر تھا کہ ہمیں ایک آزاد وطن نصیب ہوا۔

انہوں نے اُمتِ مسلمہ کے لیے بے تحاشا خدمات انجام دیں۔ بلاشبہ ان کی شاعری لازوال ہے۔ وہ بحیثیت شاعر عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ آج بھی دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو عقیدت اور محبت کے پھول ان پر نچھاور کرتے ہیں۔

ہماری قوم کا وتیرہ بن گیا ہے کہ کسی بھی خاص دن پر وہ اس حوالے سے بڑے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتی ہے، پھر پورے سال اس ضمن میں خاموشی رہتی ہے۔ اسی طرح شاعرِ مشرق کی خدمات کے اعتراف میں سال میں محض دو دن منانا اور پھر انہیں فراموش کر دینے کی روش اختیار کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اقبال دراصل ایسے لافانی فلسفے، فکر اور نظریات کا نام ہے۔ ہمیں اس عظیم شاعر کے افکار کا پرچار محض برسی اور سالگرہ کے مواقع پر ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر لمحہ انہیں اپنے پیشِ نظر رکھنا اور ان کو پروان چڑھانا چاہیے۔ بلاشبہ ملک و قوم اقبال کے نظریات اور افکار پر عمل پیرا ہو کر ہی ترقی کی معراج کو پہنچ سکتے ہیں۔ غرض ان کی آفاقی فکر کی پیروی میں ہی ہماری فلاح و بہبود پوشیدہ ہے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

علامہ اقبال نے یہ شعر تاریخ ساز شخصیت کے لیے لکھا تھا اور بلا شک و شبہ علامہ اقبال پاک و ہند کی ایک ایسی تاریخ ساز اور عہد ساز شخصیت ہیں، جنہوں نے نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا ’’نظریہ‘‘ متعارف کرایا بلکہ اپنی شاعری میں جدید نظریات، سائنس اور عالمی فکر کی اس امکانی قوت کو بیان کیا، جس کے محور پر انسانیت و آفاقیت زمانۂ اول سے گردش کرتی چلی آ رہی ہے اور جس کا سفر ہمیشہ سے آگے اور مزید آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

علامہ اقبال کے انقلاب کا آفتاب مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ اس کی اولین کرنیں اسلامی مشرق کو بیدار، متحد اور سرگرمِ عمل کرتی ہیں، مگر اس کی بھرپور روشنی تمام عالمِ انسانی کو منور کرتی ہے۔ اقبال نئی دنیا کی تعمیر کی دعوت دو وجوہات سے دیتے ہیں۔ کلامِ اقبال کا بیشتر حصہ ایسا ہے جس میں براہِ راست انسانوں سے خطاب ہے یا انسانوں کی ترجمانی ہے۔ انسان دوستی، احترامِ آدمیت اور عظمتِ انسانی کی تائید و تفسیر کلامِ اقبال کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کلامِ اقبال میں خاصی مقدار میں ایسے اشعار ہیں جن کا موضوع انسان اور عالمِ انسانیت ہے۔

وہ ایک بین الاقوامی دور کے دانشور اور مفکر تھے، لہٰذا وہ ہماری تاریخ کے سب سے پہلے اور بڑے شاعر تھے جنہوں نے شعوری طور پر آفاقیت کو اپنا مطمحِ نظر بنایا۔ علامہ اقبال اسلامی قومیت کے علمبردار تھے۔ ان کی اسلامی اور ملی شاعری آفاقیت کے منافی نہیں۔ درحقیقت اقبال کی انسان دوستی کو قرآنی تصورِ توحید سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ نظریۂ توحید ہی مستقل طور پر انسان کو خوف سے نجات دلاتا ہے اور مظلوم میں ظالم سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔

اکیسویں صدی شاید ماضی کی صدیوں سے زیادہ حساس صدی ہے کہ حضرتِ انسان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جہاں ایک طرف تو دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے تو وہیں مذہب و عقیدے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مادیت کی دوڑ میں روحانیت کو کچلا جا چکا ہے۔ عقائد میں مکالمہ ختم ہو چکا ہے، جب کہ ہر فساد کے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں علامہ اقبال کے افکار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ جنہیں پھیلا کر امن و آشتی کی فضا قائم کی جا سکتی ہے۔

اقبال نے مسلمانوں کو الگ پہچان کے ساتھ سر اٹھانے کی تحریک دی۔ انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ یہ قوم غلام ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لیے تمام مسلمان یکجا ہو کر اپنی پہچان کے لیے ظالم کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں تو آدھے سے زیادہ مسائل تو ایسے ہی حل ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان، مسلم صوفی اور تحریکِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہِ شہرت ہے۔ شاعری میں ان کا بنیادی رجحان تصوف اور احیائے اُمتِ اسلام کی طرف تھا۔

’’The Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘ کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب اور چند مشہور کتب بھی تحریر کیں، جن کے نام یہ ہیں:

’’بانگِ درا (اردو)‘‘، ’’بالِ جبریل (اردو)‘‘، ’’ضربِ کلیم (اردو)‘‘، ’’ارمغانِ حجاز (اردو)‘‘، ’’تجدیدِ فکرِ دینی در اسلام (اردو)‘‘، ’’اسرار و رموز (فارسی)‘‘، ’’پیامِ مشرق (فارسی)‘‘، ’’زبورِ عجم (فارسی)‘‘، ’’جاوید نامہ (فارسی)‘‘، ’’پس چہ باید کرد (فارسی)‘‘، ’’دیوانِ محمد اقبال (عربی، والیم 1 تا 10)‘‘۔

اقبال کسی ایک دور کا شاعر نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے افکار کے ذریعے تمام زمانوں کو محیط کیا ہے۔ اقبال کی تمام خصوصیات اور فکرِ اقبال کی تمام جہتیں دراصل قرآنِ عظیم کی رہنمائی میں تشکیل پاتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک قوم کی عظمتِ رفتہ کی بحالی قرآن اور حاملِ قرآن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف رجوع کرنے سے ممکن ہے۔ انسان کے لیے رشد و ہدایت کے یہی دو منبع ہیں۔ ان سے گریز کرکے نہ دین ملتا ہے، نہ دنیا، نہ زندگی کو زندگی بنایا جا سکتا ہے اور نہ آخرت کو بقا کا مقام دیا جا سکتا ہے۔

علامہ اقبال مسلمان سے جدتِ کردار کا طالب ہے اور اس لیے واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوئے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ اقبال کو دورِ جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہٰ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

وہ دانائے سُبُل، ختم الرسل، مولائے کُل ﷺ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہیٰ طٰہٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے