گوجرانوالہ /چیچہ وطنی (کیو این این ورلڈ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 چیچہ وطنی پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ دونوں حلقوں میں صبح سے شروع ہونے والی پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام تک جاری رہے گی، جس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
این اے 77 گوجرانوالہ کا انتخابی منظرنامہ
حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راشد بشیر ورک اور مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر کے درمیان مقابلہ ہے، جبکہ الفت رسول وڑائچ بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس نشست کے لیے اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اس ضمنی انتخاب کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق حلقہ این اے 77 میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 18 ہزار ہے۔ ووٹنگ کی شفاف اور پرامن منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے حلقے بھر میں 333 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
پی پی 203 چیچہ وطنی کی صورتحال
دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 چیچہ وطنی میں بھی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حلقے میں مجموعی طور پر 7 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسد حنیف جٹ میدان میں ہیں، جبکہ دیگر امیدواروں میں اویس گجر، چوہدری شعیب، آصف سلطان، وحید کاٹھیا، عمر بشیر جٹ اور فرحان بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
اس حلقے میں بھی پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کر رکھا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا بھی کوئی امیدوار انتخابی معرکے میں شامل نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پی پی 203 میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 58 ہزار 122 ہے اور ووٹرز کی سہولت کے لیے 185 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی 7 ریزرو فورسز بھی الرٹ رکھی گئی ہیں۔
نشستیں خالی ہونے کا پس منظر
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 77 مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محمود بشیر ورک اور صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 203 مسلم لیگ (ن) کے رکن حنیف جٹ کے انتقال کے باعث خالی ہوا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد کرایا ہے۔