علاقائی تجارت میں پاکستان کا بڑھتا خسارہ، معاشی حکمتِ عملی پر نظرثانی ناگزیر

علاقائی تجارت، خسارہ ہی خسارہ
تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز)، پشاور
ای میل: ziaulhaqsarhadi@gmail.com
پاکستان کی معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے علاقائی تجارت کا فروغ دینا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن حالیہ تجارتی اعداد و شمار ایک ایسی صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس پر حکومت، پالیسی سازوں اور معاشی ماہرین کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.6 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 4 ارب 97 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران یہ خسارہ 3 ارب 93 کروڑ ڈالر تھا۔ محض ایک سال میں تجارتی خسارے میں اس قدر اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو علاقائی منڈیوں میں اپنی برآمدی صلاحیت بہتر بنانے، تجارتی روابط مستحکم کرنے اور معاشی سفارت کاری کو مؤثر بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

تجارتی خسارے میں اضافے کا تعلق درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پسِ منظر میں موجود معاشی، سفارتی اور جغرافیائی عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں اسے جغرافیائی وسعت، سستی لیبر، اور سنگاپور کی منڈیوں تک رسائی کے قدرتی مواقع حاصل ہیں۔ اس کے باوجود اگر علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت میں توازن مسلسل بگڑ رہا ہے تو یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ موجودہ تجارتی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

کسی بھی ملک کی جغرافیائی اہمیت اسی وقت حقیقی معاشی قوت میں تبدیل ہوتی ہے جب وہ اپنے کل برآمدی تجارتی سرگرمیوں، صنعتی پیداوار، برآمدات اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے استدلال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

حالیہ اعداد و شمار میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو پاکستان کی برآمدات میں ہونے والی کمی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں علاقائی ممالک کو پاکستانی برآمدات 944 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ایک ارب دس ملین ڈالر تھیں۔ یہ برآمدات میں کمی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ، درآمدی ضروریات اور زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور معاشی بحالی جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

برآمدات کی کمی معیشت کے لیے بیرونی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہیں، ان میں کمی سے نہ صرف تجارتی خسارہ بڑھتا ہے بلکہ ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت، روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے علاقائی تجارت کے حوالے سے حکومتی پالیسی کا بنیادی مقصد محض برآمدات کو محدود کرنا نہیں، بلکہ پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا اور موجودہ منڈیوں میں ان کا حصہ بڑھانا ہونا چاہیے۔

پاکستان کے علاقائی تجارتی مسائل کا ایک اہم سبب پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں پائے جانے والے اتار چڑھاؤ ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی بندشوں اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باعث، پاکستان کی برآمدات میں 68 فیصد سے زائد کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سیاسی اور سلامتی سے متعلق تنازعات معاشی اقدامات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔

افغانستان پاکستان کے لیے صرف ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور تجارتی ضرورتیں ایک ایسا پلیٹ فارم کرتے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر باہمی تجارت کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ تاہم اب سرحدی گزرگاہیں بند ہوتی ہیں، یا تجارتی آمد و رفت غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہو جاتی ہے تو اس کا نقصان دونوں طرف کے تاجروں، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور عام صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔

قومی سلامتی کے تقاضوں سے صرفِ نظر کیے بغیر یہ ضروری ہے کہ سرحدی انتظام اور تجارتی سہولت کاری کو ایک دوسرے کے تضاد تصورات نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کو اپنی سرحدوں کی حفاظت، غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ہی تجارت کے لیے ایسے قابلِ اعتماد انتظامات بھی ضروری ہیں، جن کے ذریعے قانونی کاروباری سرگرمیوں میں کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا ہو۔

جاری رکھیں، جدید سرحدی انتظام، الیکٹرانک دستاویزات، اور کارگو اسکیننگ نظام کی سپلائی جانچ اور تیاری کے لیے واضح قواعد اس سلسلے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اس طرح سلامتی کے تقاضے بھی پورے کیے جا سکتے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں کو غیر ضروری تعطل سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات، سلامتی کے مسائل اور علاقائی تنازعات نے معاشی تعاون کے امکانات کو محدود کر رکھا ہے۔ اگرچہ ان مسائل کی نوعیت پیچیدہ ہے اور ان کا حل محض تجارتی مذاکرات سے ممکن نہیں، تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ علاقائی تجارت کی بندش دونوں معیشتوں کے لیے موقعہ محدود کرتی ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں ممالک اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود بعض شعبوں میں معاشی تعاون جاری رکھتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری اور معیشتی روابط سے حاصل ہونے والے فوائد قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے امکانات کا جائزہ لیتا رہے جن سے محض میں علاقائی معاشی تعاون کی راہیں کھل سکیں۔

جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے لیے سارک اور تجارتی تنظیمیں تو پہلے سے موجود ہیں، لیکن سیاسی اختلافات اور باہمی اعتماد کی کمی نے ان کی افادیت کو محدود کر دیا ہے۔ اس صورت حال کا نقصان صرف پاکستان یا کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں بڑی آبادی، وسیع صارف منڈیاں، زرعی وسائل، صنعتی صلاحیت اور نوجوان افرادی قوت موجود ہے۔ اگر یہ ممالک تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے، کسٹمز نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور علاقائی لنکد بنانے میں کسی حد تک کامیاب ہو جائیں تو یہ معیشتوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس جب خطے کے ممالک ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی محدود رکھتے ہیں تو انہیں دور دراز منڈیوں سے زیادہ لاگت پر اشیا حاصل کرنا پڑتی ہیں، جبکہ مقامی صنعتوں کو اپنی مصنوعات کے لیے مختلف خریداروں کی ایک بڑی تعداد سے محروم رہنا پڑتا ہے۔

عالمی معیشت میں موجودہ تبدیلیاں اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہیں کہ معاشی مفادات اور سیاسی تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑی عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ شدید سیاسی، نظریاتی اور تزویراتی اختلافات رکھنے کے باوجود اپنے تجارتی مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرتیں۔ چین اور امریکہ کے تعلقات اس کی ایک مثال ہیں، جہاں متعدد معاملات پر اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی روابط عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس طرح چین اور بھارت کے درمیان سیاسی اور تزویراتی تقاضات کے باوجود تجارتی سرگرمیاں منسلک اور جاری ہیں، یا ان مثالوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اپنے قومی مفادات یا سلامتی کے تحفظ میں سمجھوتہ کرے، بلکہ سبق یہ ہے کہ سفارت کاری، تجارت اور سلامتی کی پالیسیوں کے درمیان ایسا توازن پیدا کیا جائے جس سے قومی مفادات کا زیادہ مؤثر تحفظ ممکن ہو سکے۔

پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی میں جیو اکنامکس کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔ جیو اکنامکس سے مراد جغرافیائی محلِ وقوع، تجارتی روابط، سرمایہ کاری، توانائی، صنعتی تعاون اور معاشی وسائل کو قومی مفادات کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطی کے درمیان ایک اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے