امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی دو برسوں کی کارکردگی کا فیصلہ کرنے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ جاری ہے۔ ان انتخابات کو صدر ٹرمپ کی مقبولیت، ان کی پالیسیوں اور آئندہ سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک، کنیکٹیکٹ، نیو جرسی اور ورجینیا سمیت متعدد ریاستوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے ووٹنگ شروع ہوئی، جبکہ دیگر ریاستوں میں پولنگ کا آغاز مختلف اوقات میں ہوا۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ووٹنگ لیب کے اعدادوشمار کے مطابق انتخابات کے روز سے قبل 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد امریکی شہری قبل از وقت یا ڈاک کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے تھے۔
انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جا رہا ہے۔
ان انتخابات کے نتائج سے طے ہوگا کہ آئندہ دو برس امریکی کانگریس پر ریپبلکنز کا کنٹرول برقرار رہے گا یا ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرکے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے سامنے رکاوٹ بننے میں کامیاب ہوں گے۔
مختلف عوامی جائزوں اور غیرجانبدار سیاسی تجزیہ کاروں کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں برتری حاصل کرنے کا امکان ہے، تاہم سینیٹ میں کنٹرول کی جنگ سخت قرار دی جا رہی ہے۔ نتائج کی گنتی اور حتمی صورتحال واضح ہونے میں بعض ریاستوں میں بدھ یا اس کے بعد تک وقت لگ سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ان انتخابات میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے، جبکہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات بھی ووٹروں کی ترجیحات پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مشی گن سے سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر مختلف نسلی و مذہبی گروہوں سے نفرت کرنے کا الزام عائد کیا۔
انتخابی نتائج نہ صرف کانگریس میں دونوں جماعتوں کی پوزیشن کا تعین کریں گے بلکہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت اور ریپبلکن پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا کے 20 ہزار ووٹروں کے بیلٹ روکنے کی درخواست مسترد کردی
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ریاست کیلیفورنیا میں تقریباً 20 ہزار ایسے ووٹروں کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ الگ رکھنے اور ان کی گنتی روکنے کی درخواست مسترد کردی ہے جن کے بارے میں وفاقی حکومت نے غیر امریکی شہری ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔
برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کیلیفورنیا کی ووٹر فہرست میں تقریباً 20 ہزار ایسے افراد شامل ہیں جنہیں وفاقی حکام نے ممکنہ طور پر غیر امریکی شہری قرار دیا ہے، تاہم ان افراد کی شہریت کے حوالے سے حتمی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ریاستی انتخابی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان افراد کے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹ الگ رکھے جائیں اور شہریت کی تصدیق ہونے تک ان کی گنتی نہ کی جائے۔ وفاقی حکومت نے کیلیفورنیا انتظامیہ کو فراہم کردہ فہرست کی جانچ کے لیے 48 گھنٹے دیے تھے، تاہم ریاستی حکام نے اس مطالبے کو مسترد کردیا۔
اس کے بعد معاملہ وفاقی عدالتوں تک پہنچ گیا۔ ابتدائی طور پر نچلی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کی، جبکہ اپیل کورٹ سے بھی مطلوبہ ریلیف نہ مل سکا۔ محکمہ انصاف نے بعدازاں امریکی سپریم کورٹ سے ہنگامی مداخلت کی درخواست کی۔
سپریم کورٹ نے پیر 2 نومبر کو ایک مختصر حکم کے ذریعے درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کیں اور کسی جج نے اختلافی نوٹ بھی جاری نہیں کیا۔
کیلیفورنیا حکام کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت کی فراہم کردہ فہرست میں غلطیاں ہوسکتی ہیں اور صرف شبہات کی بنیاد پر ووٹ الگ رکھنے یا ان کی گنتی روکنے سے اہل امریکی شہریوں کا حق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل سامنے آیا، جس نے انتخابی عمل میں وفاقی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کے اختیارات کے درمیان جاری قانونی تنازع کو مزید نمایاں کردیا۔