پشاور (کیو این این ورلڈ) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ڈرائی پورٹ و ریلوے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ کراچی سے چلنے والی عوام ایکسپریس 13 اپ مسلسل انجنوں کی خرابی کے باعث مقررہ وقت پر لاہور نہیں پہنچ سکی۔ ان کے مطابق تقریباً 1200 کلومیٹر کے سفر کے دوران ٹرین کی چار مختلف پاورز تبدیل کرنا پڑیں، جس سے ریلوے کے انجنوں کی کارکردگی اور دیکھ بھال کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔
اپنے بیان میں ضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ عوام ایکسپریس کی پہلی پاور نمبر 9035 محراب پور سے پہلے خراب ہوگئی، جس کے بعد محراب پور میں اسے تبدیل کرکے انجن نمبر 9034 لگایا گیا، تاہم یہ انجن بھی روہڑی جنکشن پہنچ کر ناکام ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ روہڑی جنکشن سے ٹرین کے ساتھ جی ای یو 20 نمبر 4570 منسلک کیا گیا، لیکن ملتان پہنچتے پہنچتے یہ انجن بھی خراب ہوگیا۔ ملتان میں دستیاب واحد پاور جی ای یو 20 نمبر 4565 ٹرین کے ساتھ لگائی گئی، جسے یوسف والا پہنچنے پر دوبارہ تبدیل کرنا پڑا اور اس کی جگہ جی ای یو 40 نمبر 9014 لگایا گیا۔
ضیاء الحق سرحدی کے مطابق انجنوں کی مسلسل خرابی کے باعث عوام ایکسپریس کا سفر شدید متاثر ہوا اور ان کے بیان کے وقت ٹرین لاہور کے قریب موجود تھی، تاہم ریلوے ٹریکر پر اس کی پوزیشن ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور سے ٹرین کے ساتھ ایک الگ پاور منسلک کی جائے گی، جو اسے ممکنہ طور پر پشاور تک پہنچائے گی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر محض 9 سے 10 سال قبل درآمد کی گئی جدید مشینری اور انجنوں کی کارکردگی یہ ہے تو دیگر پرانے لوکوموٹیوز کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ان کے مطابق ٹرین کے مختصر سفر میں بار بار پاور کی تبدیلی ریلوے کے نظام اور انجنوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔
ضیاء الحق سرحدی نے اس صورتحال کو ریلوے کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے انجنوں کی کارکردگی، مرمت اور دیکھ بھال کے نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔