خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نور حلیم آفریدی) ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے نومنتخب ممبر حاجی شیرین آفریدی کی اپنے آبائی علاقے سپاہ آمد پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ اور مبارکباد کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں قومی مشران، سابق پارلیمنٹرینز، قبائلی عمائدین اور علاقے کی سرکردہ شخصیات سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے علاقے میں پائیدار امن کے قیام، قومی اتفاق و اتحاد اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب کا اہتمام خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی قبیلہ سپاہ کے زیر اہتمام حرا سکول سپاہ میں کیا گیا۔ اس موقع پر قومی مشران اور حاجی شیرین آفریدی کے قریبی دوستوں نے انہیں اے آر ڈی سی کا ممبر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ علاقے کے مسائل کے حل، عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کریں گے۔
تقریب میں سابق پارلیمنٹرین حاجی محمد شاہ، حاجی سید مرجان، حاجی نواب، حاجی جان گل، حاجی جمار گل، حاجی نصیب، حاجی شریف، حاجی سید محمد، قاضی ملک وارث خان، شیخ گل صدر، چیئرمین قاصم، خدمت خلق کے صدر گل آباد، تراب علی، ملک شاہ ایران، مقبلی خان، قاضی شامیر سمیت خدمت خلق کمیٹی سپاہ کے ارکان، قومی مشران اور دیگر عمائدین نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے آر ڈی سی ممبر حاجی شیرین آفریدی نے کہا کہ خیبر کا علاقہ اس وقت ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے، جہاں امن و امان سمیت متعدد مسائل درپیش ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے جرگوں، قومی مشاورت اور اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر تاریخی طور پر جرگوں اور مشران کی سرزمین رہا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہاں دو اہم شعبوں، مشران کے احترام اور تعلیم کو نقصان پہنچا ہے۔ مشران کے احترام میں کمی سے قبائلی روایات اور قومی اقدار متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ تعلیمی مواقع کی کمی علاقے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔
حاجی شیرین آفریدی نے امن و امان کو علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ اور بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی کے دیگر تمام اقدامات بے اثر ثابت ہوں گے۔ امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی اور عوام و ریاست کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے تعلیمی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 78 سال گزرنے کے باوجود اگر کسی علاقے کو یونیورسٹی اور میڈیکل کالج جیسی بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم نہ کی جائیں تو عوام میں احساسِ محرومی اور نظام سے مایوسی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قوم کو درپیش مسائل اور ان کے اسباب سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم ان مسائل کے حل کے لیے قومی اتفاق و اتحاد ناگزیر ہے۔
اے آر ڈی سی ممبر کا مزید کہنا تھا کہ علاقے کی بہتری کے لیے سیاست اور قبیلہ پرستی سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ خیبر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام قبائل اور طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے اور باہمی تعاون و قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے حاجی شیرین آفریدی کو اے آر ڈی سی کا ممبر منتخب ہونے پر اعزازی شیلڈ پیش کی، جبکہ قومی مشران کی جانب سے انہیں روایتی قبائلی اعزاز کے طور پر کولالنگی بھی پہنائی گئی۔