اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں ان کی زیرِ صدارت اجلاس میں پروگرام کے مختلف اقدامات، خواتین کو بااختیار بنانے اور مستحق خاندانوں کی معاونت سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین کو بااختیار بنانے اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے میں بی آئی ایس پی کے کردار کو سراہتے ہوئے پروگرام کے اقدامات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے مالیاتی آگاہی اور عوامی شعور میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ مستحقین کی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ انہیں درپیش مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔ خاتونِ اول نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے تعاون سے بی آئی ایس پی کی خدمات مستحق افراد تک پہنچانے کی تجویز بھی پیش کی۔
اجلاس کے دوران چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد نے پروگرام کے معاشی اثرات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پروگرام کے تحت خرچ ہونے والا ہر ایک روپیہ 2 روپے 34 پیسے کی حقیقی آمدن پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں سے قومی خزانے کو سالانہ 174 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
روبینہ خالد نے مزید بتایا کہ بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت 50 ہزار سے زائد افراد کی فنی تربیت کے لیے رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔ پروگرام کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، مہمان نوازی اور تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔
اجلاس میں مستحق خاندانوں کی معاونت کو مزید مؤثر بنانے، مالیاتی آگاہی بڑھانے اور پروگرام کی خدمات ضرورت مند افراد تک پہنچانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔