تتلے عالی پولیس نے قندیل اقبال کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کر دیا، وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل

گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف محمد رمضان نوشاہی) خلع کا مقدمہ دائر کرنے پر خاتون قندیل اقبال کو مبینہ طور پر اغوا کرکے چار روز تک حبسِ بے جا میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایس ایچ او تھانہ تتلے عالی چوہدری سیف اللہ ڈھلوں ایڈووکیٹ کی خصوصی کاوشوں سے خاتون کو بازیاب کروا کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشہرہ ورکاں مدثر فرید کھوکھر کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

قندیل اقبال نے اپنے ویڈیو بیان میں اپنے شوہر آصف اور ارشد شریف پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں 24 اکتوبر 2026 کو ڈیرہ ریاست گجر، نزد ماسٹر سٹی گوجرانوالہ سے زبردستی اغوا کیا گیا اور محلہ انصاریان، تتلے عالی لے جا کر چار روز تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا، جہاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

خاتون کے ویڈیو بیان میں ان کے چہرے پر سوجن اور نیلگوں نشانات واضح دکھائی دیتے ہیں۔ قندیل اقبال کا کہنا ہے کہ تشدد کے نشانات صرف چہرے پر ہی نہیں بلکہ ان کے پورے جسم پر موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے داد رسی کی اپیل کی ہے۔

قندیل اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے ساتھ پیش آنے والی زیادتی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے