سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف مدثر رتو) سیالکوٹ میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کچہری چوک میں ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے کی۔ ریلی میں طلبہ، اساتذہ، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حقِ آزادی کی حمایت کی۔
ریلی کے شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر کچہری چوک ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ شرکاء نے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت میں بھرپور نعرے بازی کی۔ تقریب کے دوران پاکستان اور کشمیر کے ترانے بھی پیش کیے گئے، جبکہ ریسکیو 1122 اور پنجاب پولیس کے دستوں نے سلامی پیش کی۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک اہم اور المناک دن ہے، جب ان کے بقول بھارتی افواج وادیٔ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو یاد رکھنا، ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور مسئلہ کشمیر کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانی قوم کا ہر فرد کشمیری عوام کی آزادی کے لیے دعاگو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی۔
انہوں نے ریلی میں نوجوانوں اور طلبہ کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی مسئلہ کشمیر سے وابستگی قابلِ توجہ ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور بیدار رکھنا ضروری ہے تاکہ کشمیری عوام کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو اجاگر کیا جا سکے۔
ریلی کے اختتام پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کا اعادہ کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کی حمایت کرتی رہے گی۔