کراچی (کیو این این ورلڈ): اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج مانیٹری پالیسی کا اہم اعلان کر دیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مرکزی بینک کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ (شرح سود) میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلے کے تحت شرح سود کو 11.5 فیصد (ساڑھے گیارہ فیصد) سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا گیا ہے۔ نیا ریٹ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے اس دباؤ کو مزید شدید کر دیا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر کمیٹی نے شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
جمیل احمد نے وضاحت کی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور عام آدمی کی قوت خرید پر پڑ رہا ہے، جبکہ مہنگائی کی موجودہ سطح مرکزی بینک کے درمیانی مدت کے ہدف سے بلند ہے۔ اس لیے سخت مانیٹری پالیسی اپنانا ضروری قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں اس اضافے سے بینک قرضوں کی لاگت بڑھے گی، جس سے قرض لینے والے افراد اور کاروباری اداروں پر اثر پڑے گا۔ دوسری جانب اس اقدام سے روپے کی قدر کو استحکام ملنے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہونے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا یہ فیصلہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی شعبے کی صورتحال کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ گورنر نے کہا کہ مرکزی بینک معیشت کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔