اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پارٹی رہنما سلمان اکرم راجہ سے ان کے بیان پر معذرت کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر جمہوری فیصلہ سازوں، مبینہ گروپ اور پارٹی کے منتخب نمائندوں سے متعلق الزامات کی وضاحت طلب کرلی۔
علی امین گنڈاپور نے سوال اٹھایا کہ سلمان اکرم راجہ نے غیر جمہوری فیصلہ سازوں اور ایک مبینہ گروپ کی سازش کا ذکر کیا ہے تو واضح کیا جائے کہ یہ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کن ارکان اسمبلی پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلیٰ کے امیدوار کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
گنڈاپور نے جنید اکبر کی عدم موجودگی میں علی اصغر خان کو قائم مقام صوبائی صدر مقرر کیے جانے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر علی اصغر خان کو قائم مقام صدر مقرر کیا گیا ہے تو اس کا نوٹیفکیشن کہاں ہے اور یہ اختیار کس نے استعمال کیا؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت جس بحران سے گزر رہی ہے، اس میں قیادت کی کارکردگی، فیصلوں اور ذمہ داریوں کا شفاف جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی مشاورت کے ذریعے موجودہ بحران کا آئینی اور سیاسی حل تلاش کرنا چاہتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ چند افراد کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ منتخب نمائندوں کو غدار قرار دیں؟
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر غیر جمہوری فیصلہ ساز حملہ آور ہیں۔ ان کے بقول یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کی صورت میں صوبائی صدر اور آئندہ وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے جنید اکبر کی عدم موجودگی میں علی اصغر خان کے قائم مقام صوبائی صدر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ’’سانپوں اور سپولیوں کو شکست ہو گی۔‘‘
علی امین گنڈاپور کی جانب سے وضاحت اور معذرت کے مطالبے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اور خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے درمیان اختلافات کا معاملہ مزید نمایاں ہوگیا ہے۔ تاہم، مذکورہ بیانات کی روشنی میں فریقین کے مؤقف اور اٹھائے گئے سوالات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے؛ پارٹی کے اندرونی بحران کے حل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے آنے کی تفصیل فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔