فجر یمن آپریشن: یمنی فوج نے 24 گھنٹوں میں 744 حملے کیے تعز سمیت متعدد محاذوں پر یمنی افواج کی کارروائیاں تیز، 90 گاڑیاں تباہ

صنعاء (کیو این این ورلڈ) یمن کی مسلح افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 744 درست نشانہ گیری کے حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں تقریباً 200 جنگجو ہلاک یا ناکارہ ہو گئے جبکہ 90 عسکری گاڑیاں اور دیگر سامان تباہ یا خراب کر دیا گیا۔ یمنی فوج کے ترجمان کرنل رکن ماجد عبداللہ النزیلی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں آپریشن “فجر یمن” کے تحت کی گئیں، جس میں جنگی طیاروں، ڈرونز، فیلڈ آرٹلری، راکٹ لانچرز اور اسنائپر یونٹس نے حصہ لیا۔ ان حملوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، فائرنگ پوزیشنز، مضبوط ٹھکانوں، ریزرو فورسز کے اجتماعات، کمک اور رسدی راستوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کے مطابق صوبہ تعز سمیت مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر مربوط پیش قدمی اور شدید فائرنگ کے باعث حوثی باغی پسپائی اختیار کر رہے ہیں اور ان کی نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ تمام حملے صرف عسکری اہداف پر کیے جا رہے ہیں جبکہ عام شہریوں اور شہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ یہ دعوے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، جیسا کہ یمن کی جنگ میں دونوں فریقین کے بیانات کے ساتھ عام طور پر ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ 4 اور 5 اکتوبر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے آپریشن فجر یمن کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے واپس لینا اور ریاستی اداروں کو بحال کرنا ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں حوثیوں نے مغربی ساحل پر بڑی پیش قدمی کی تھی، جس میں موکا بندرگاہ اور باب المندب کے قریب علاقے ان کے کنٹرول میں آئے تھے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کی فضائی مدد کے ساتھ حکومتی فورسز روزانہ سینکڑوں سے ہزاروں تک حملوں کے دعوے کر رہی ہیں۔ تعز اب بھی سب سے حساس محاذ ہے جہاں حکومت دباؤ بڑھانے کا دعویٰ کرتی ہے تاہم حوثیوں نے شہر کے اردگرد کنٹرول مضبوط رکھا ہوا ہے اور اہم سپلائی روٹس متاثر ہیں۔ مارب اور مغربی ساحل پر بھی لڑائی جاری ہے۔ حوثیوں نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں جن میں شبوہ میں فوجی کیمپ پر میزائل حملہ اور سعودی عرب کے اندر اہداف پر حملے شامل ہیں۔

اگست سے اب تک دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ تعز شہر میں خوراک، ایندھن اور طبی سہولیات کی شدید کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی ادارے صورتحال کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ یمن میں 2022 کے سیز فائر کے بعد یہ سب سے بڑی فوجی شدت ہے اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے