ہر بار سکول کی چھت بچوں پر ہی کیوں گرتی ہے؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پشاور کی دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کی چھت جب گری تو صرف اینٹیں اور سیمنٹ نہیں گرا بلکہ نا جانے کتنے ہی گھروں کے آنگن اجڑ گئے۔ کئی ماؤں کے سینے اور کلیجے پھٹ گئے۔ وہ تینتالیس سالہ ماں جو صبح اپنے دس سالہ بیٹے کو سکول بھیجتے وقت پیار سے مسکرا رہی تھی، شام کو اس کی بے جان لاش اپنی گود میں اٹھائے بیٹھی تھی۔ وہ بائیس سالہ ٹیچر ثمرین بی بی جو معصوم بچوں کو زندگی کا سبق پڑھانے گئی تھی، خود ایک تلخ سبق بن کر رہ گئی۔ یہ محض ایک حادثہ یا سانحہ نہیں تھا بلکہ یہ اس طویل اور خونچکاں سلسلے کی تازہ ترین کڑی تھی جو پاکستان میں برسوں سے خاموشی سے چل رہا ہے۔
دل کو چیر دینے والا سوال یہ ہے کہ ہر بار سکول کی چھت بچوں پر ہی کیوں گرتی ہے؟ کوئی دیوار کسی اور جگہ کیوں نہیں گرتی؟ کوئی بھاری عمارت کسی بڑے دفتر پر کیوں نہیں بیٹھتی؟ کیوں ہمیشہ وہی چھت منہدم ہوتی ہے جس کے نیچے ہمارے ملک کے معصوم اور نادان بچے بیٹھے علم حاصل کر رہے ہوتے ہیں؟
حالیہ برسوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں تو دردناک سچائی بالکل صاف ہو جاتی ہے۔ جون 2026 میں لاہور کے کاہنہ علاقے میں جب ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گری تو چودہ معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے۔ مئی 2026 میں ڈیرہ غازی خان میں "دی لٹل سکالرز سکول” کے کلاس روم کی چھت گرنے سے چار ننھی جانیں ہمیشہ کے لیے سو گئیں۔ جولائی میں لاہور کے باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر سکول کی چھت گری تو ایک اور معصوم کی جان چلی گئی۔ فروری میں سیالکوٹ کے ایک سرکاری سکول میں ایک طالبہ بے دردی سے ملبے تلے دب کر مر گئی۔ اور اب اکتوبر 2026 میں پشاور کا یہ لرزہ خیز سانحہ! یہ کوئی مکمل فہرست نہیں۔ چھوٹے موٹے واقعات تو اس معاشرے میں گنے ہی نہیں جاتے۔ اور ہر بار ایک ہی دردناک کہانی دہرائی جاتی ہے کہ خستہ حال عمارت، بغیر معائنہ کے جاری ہونے والی رجسٹریشن، عارضی سہارے، بارش کا گھسا پٹا بہانہ اور پھر ملبے تلے دبے ہوئی وہ معصوم کلیاں۔
ہر سانحے کے فوراً بعد سرکاری مشینری سرعت سے حرکت میں آ جاتی ہے۔ بڑی بڑی کمیٹیاں بنتی ہیں، کاغذی انسپکشن کا ڈرامہ شروع ہوتا ہے، کسی مالک کو گرفتار بھی کر لیا جاتا ہے، گورنر اور وزیرِ اعلیٰ تعزیت کے رسمی ٹویٹس اور پیغامات جاری کرتے ہیں یاخود دنیا کو دکھانے کیلئے چلے جاتے ہیں اور دس دس لاکھ روپے کے مرہم نما چیکوں کا اعلان ہوتا ہے، میڈیا پر کچھ دن شور مچتا ہے… اور پھر؟
کچھ ہفتے گزرتے ہیں، یہ سارا شور تھم جاتا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کسی تاریک الماری کی نذر ہو جاتی ہے۔ وہ خستہ عمارتیں ویسے ہی موت کا پروانہ لیے کھڑی رہتی ہیں اور متعلقہ انتظامیہ گہری اور لمبی تان کر سو جاتی ہے۔ بالکل اگلے کسی نئے سانحے کے رونما ہونے تک!
آخر یہ شیطانی چکر آخر کیوں چلتا ہے؟
پہلی بنیادی وجہ ہمارا وہ بیمار نظام ہے جو صرف اور صرف ردعمل (Reaction) پر چلتا ہے جبکہ روک تھام (Prevention) پر نہیں۔ ہم پہلے کسی بڑے حادثے کا انتظار کرتے ہیں۔ جب تک کوئی بچہ نہ مرے، کسی کو عمارت کی جانچ پڑتال کی توفیق نہیں ہوتی۔ جب تک بھاری ملبے سے لاشیں نہ نکلیں، این او سی (NOC) اور رجسٹریشن کے کاغذات کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ ضلعی انتظامیہ کے پاس سال بھر کے لیے کوئی ایسا باقاعدہ ٹائم ٹیبل ہوتا ہی نہیں جو تمام نجی اور سرکاری سکولوں کی ساخت کا سنجیدگی معائنہ کر سکیں۔ ہمارے ریگولیٹری ادارے زیادہ تر کاغذی شیر ثابت ہوتے ہیں،جن کے پاس نہ تو حقیقی اختیارات ہوتے ہیں اور نہ ہی سیاسی دباؤ سے لڑنے کی سکت۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا میں پی ایس آر اے (PSRA) سے خستہ حال عمارتوں کو سیل کرنے کا قانونی اختیار تک واپس لے لیا گیا تھا اور آج اس کا بھیانک نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آچکا ہے۔
دوسری اور اس سے بھی زیادہ خطرناک وجہ ہمارے معاشرے میں پھیلا ہوا مفادات کا گندا جال ہے۔ بہت سے نجی سکول بغیر کسی مناسب تکنیکی معائنے کے رشوت کے زور پر رجسٹرڈ ہو جاتے ہیں۔ این او سی جاری کرنے والے بدعنوان افسران، بلڈنگ کنٹرول کے نااہل اہلکار اور مفاد پرست مقامی نمائندے اکثر اسی زنجیر کی کڑیاں ہوتے ہیں۔ ہر طرف رشوت، سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ کا راج ہوتا ہے۔ سکول کا مالک بخوبی جانتا ہے کہ اس کی عمارت اندر سے کھوکھلی اور خطرناک ہے، یہاں تک کہ معصوم بچے خود ڈر کر مالک کو بتا دیتے ہیں کہ چھت کمزور ہو چکی ہے اور پانی ٹپکتا ہے مگر وہ لالچی مالک صرف ایک عارضی اور جھوٹا سہارا لگوا کر بچوں کی جانوں سے کھیلنے والی کلاسز جاری رکھتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مرمت کرانا مہنگا پڑتا ہے اور منافع کم ہو جاتا ہے! اور جب کوئی قیامت خیز سانحہ ہو ہی جاتا ہے تو مالک کو کچھ دن کے لیے دکھاوے کی خاطر حراست میں رکھا جاتا ہے، تھانے میں ایک رسمی FIR درج ہوتی ہے اور پھر وہ مقدمہ عدالتوں میں سالوں تک گھسٹتا رہتا ہے۔ افسوس کہ ایسے درندوں کو حتمی سزا شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔
تیسری بڑی وجہ ہمارے اداروں کا عدم تسلسل ہے۔ ایک حکومت آتی ہے تو وہ اپنے نام کی ایک کمیٹی بنا دیتی ہے۔ کچھ عرصے بعد رپورٹ آتی ہے، لیکن اتنے میں اگلی حکومت آ جاتی ہے اور پرانی تمام رپورٹس کو بھلا دیا جاتا ہے۔ افسران کے تبادلے ہو جاتے ہیں، نئی ترجیحات بن جاتی ہیں اور پرانے زخموں پر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ طویل مدتی ذمہ داری اپنے سر لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ صوبائی حکومت خوبصورت پالیسیاں تو کاغذی طور پر بناتی ہے مگر ان کا نفاذ ضلعی سطح پر ہونا ہوتا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ وسائل کی شدید کمی اور مقامی سیاسی دباؤ کا ہمیشہ شکار رہتی ہے۔ ریگولیٹری ادارے آزاد نہیں ہوتے، اور جب ہر کوئی اس جرم میں شریک ہو تو اصل میں کوئی بھی ذمہ دار نہیں رہتا!
ان تمام ہولناک چیزوں کے بیچ وہ بے بس مائیں کھڑی ہوتی ہیں جن کے جگر کے ٹکڑے ہمیشہ کے لیے ان سے چھن چکے ہوتے ہیں۔ وہ باپ اپنے لختِ جگر کا جنازہ کاندھے پر اٹھا کر گھر واپس آتے ہیں اور عمر بھر انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے انصاف اکثر کسی پہاڑ کے نیچے ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے۔ یہاں صرف اور صرف پیسہ جیتتا ہے، اثر و رسوخ اور طاقتور کی لاٹھی جیت جاتی ہے اور اس غریب مظلوم کی دبی ہوئی آواز ہمیشہ کے لیے گھٹ کر رہ جاتی ہے۔ کیا ان معصوم بچوں کے خون کی اس معاشرے میں کوئی وقعت یا اہمیت نہیں؟ کیا ان ننھی جانوں کی پیدائش صرف اس لیے ہوئی تھی کہ وہ خبروں کی چند سیکنڈ کی سرخیاں بن کر مٹ جائیں؟
آج اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کون سی سیاسی حکومت زیادہ مجرم یا ذمہ دار ہے۔ اصل اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ پورا نظام ہر بار صرف ردعمل پر کیوں چلتا ہے، بروقت روک تھام کیوں نہیں کرتا؟ سوال یہ ہے کہ ان تمام خستہ حال عمارتوں کی سالانہ لازمی تکنیکی انسپکشن کا نظام کیوں موجود نہیں ہے؟ سوال یہ ہے کہ جعلی اور دھوکے پر مبنی این او سی جاری کرنے والے بدعنوان افسران کو اس سنگین غفلت پر پھانسی یا کڑی سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ سوال یہ ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے حقیقی اختیارات اور تحفظ کیوں نہیں فراہم کیا جاتا؟
جب تک یہ بنیادی اور تلخ باتیں تبدیل نہیں ہوں گی، یہ چھتیں یوں ہی معصوموں پر گرتی رہیں گی۔ اور ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں کے بچوں پر ہی گرتی رہیں گی! کیونکہ بچے اس معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہیں۔ ان کی معصوم آواز کو بڑی آسانی سے دبا دیا جاتا ہے۔ ان کے والدین زیادہ تر غریب، بے سہارا اور سیاسی اثر و رسوخ سے محروم ہوتے ہیں۔ اور یہ ظالم نظام بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ ان غریبوں کا غم اور احتجاج صرف چند دنوں کا شور بن کر خود بخود دم توڑ جائے گا۔
اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ یہ خون کا کھیل آخر کب تک یوں ہی جاری رہے گا؟ مزید کتنے معصوموں کے جنازے اس دھرتی پر اٹھائے جائیں گے؟ کتنی اور مائیں اپنے لختِ جگر کو اپنے ہی ہاتھوں سے ملبے سے نکالتے ہوئے تڑپتی رہیں گی؟
اس کا دردناک جواب ہمارے اپنے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اگر ہم نے اب بھی صرف روایتی تعزیت پر اکتفا کیے رکھا، اگر ہم نے محض کاغذی کمیٹیوں کے بننے پر ہی خود کو مطمئن کر لیا، اگر میڈیا کا شور تھمتے ہی ہم سب کچھ بھول جانے کے عادی رہے، تو یقین رکھیے کہ اگلا سانحہ بھی بہت جلد دہرایا جائے گا! اور اگلی چھت بھی کسی بدقسمت سکول کے معصوم بچوں کے ہی سر پر گرے گی… کیونکہ اس بے حس نظام نے بہت اچھی طرح یہ سیکھ لیا ہے کہ یہاں ہر شور عارضی ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں غریب اور معصوم بچوں کی جان بہت سستی ہے!
اب بھی وقت ہے کہ ہم اس مجرمانہ غفلت اور روایتی ردعمل کے خول سے نکل کر مستقل "روک تھام” کی طرف قدم بڑھائیں… ورنہ ہم عمر بھر یونہی لاشیں اٹھاتے رہیں گے، جنازوں کو کاندھا دیتے رہیں گے اور دنیا سے یہی پوچھتے رہیں گے کہ آخر ہربار سکول کی چھت بچوں پر ہی کیوں گرتی ہے؟
