پشاور، سوات، چارسدہ اور ڈی آئی خان میں مٹھائیاں بانٹنے کی اطلاعات، بعض شہریوں نے فیصلے کو یومِ نجات قرار دے دیا
پشاور (کیو این این ورلڈ) خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں بعض شہریوں کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم کرنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور مختلف ٹی وی چینلز کی رپورٹس کے مطابق پشاور، سوات، چارسدہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت متعدد مقامات پر شہریوں نے مٹھائیاں تقسیم کرکے خوشی کا اظہار کیا اور اس اقدام کو بعض افراد نے ’’یومِ نجات‘‘ قرار دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اجتماعات میں شریک بعض شہریوں نے ایمرجنسی کے فیصلے کو صوبے میں امن و امان کی بحالی اور انتظامی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ تاہم یہ ردعمل بعض شہریوں اور مخصوص مقامات تک محدود دکھائی دیتا ہے، اس لیے اسے پورے صوبے کے عوام کی متفقہ رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔
24 نیوز کی جانب سے سوات سے متعلق شیئر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہاں بعض شہریوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد نے اس اقدام کو صوبے کے حالات میں تبدیلی کی امید سے جوڑا۔
سوات میں شہریوں کے اس ردعمل کو صوبے کی بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امن و امان، دہشت گردی اور حکومتی کارکردگی کے معاملات طویل عرصے سے عوامی بحث کا حصہ رہے ہیں۔
پشاور سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز اور پوسٹس میں مٹھائی کی دکانوں پر رش اور شہریوں کی جانب سے مٹھائیاں تقسیم کرنے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ شہریوں نے بڑی مقدار میں مٹھائیاں خرید کر تقسیم کیں، جبکہ ایک دعوے میں دو من مٹھائی تقسیم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
ان ویڈیوز میں بعض افراد کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض شہریوں نے اسے امن و امان کی بہتری اور سابقہ صوبائی حکومتی انتظام سے نجات کی امید قرار دیا۔
تاہم مٹھائی کی مجموعی مقدار، شریک افراد کی تعداد اور ان سرگرمیوں کے پیمانے سے متعلق تمام دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے ان تفصیلات کو سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
چارسدہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی بعض شہریوں کو سڑکوں اور عوامی مقامات پر مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے مواد کے مطابق ان افراد نے وفاقی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے صوبے میں نئے دور کے آغاز سے تعبیر کیا۔
اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی مٹھائیاں تقسیم کرنے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان مقامات پر بعض شہریوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامی تبدیلی کے نتیجے میں امن و امان اور ترقی کے معاملات میں بہتری آئے گی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ صوبے کے وسائل گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران دھرنوں اور بدعنوانی کی نذر ہوئے، جبکہ بعض شہریوں نے ایمرجنسی کے فیصلے کو اس صورتحال سے نجات کے طور پر پیش کیا۔ بعض مقامات سے پاک فوج کے حق میں نعرے لگانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بیانات اور تبصرے متعلقہ افراد کے سیاسی مؤقف اور دعوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ صوبائی وسائل کے استعمال، بدعنوانی اور حکومتی کارکردگی سے متعلق الزامات کی الگ سے شواہد کی بنیاد پر جانچ ضروری ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور حامیوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف آئینی اور قانونی فورمز پر آواز اٹھانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یوں ایمرجنسی کے نفاذ پر صوبے میں مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض شہریوں کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے حامی اس اقدام کو سیاسی اور غیر جمہوری قرار دے رہے ہیں۔