اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ/ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں مختلف آئینی اور انتظامی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت پورے صوبے میں ایمرجنسی لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مجوزہ خطے کے تحت وفاقی کابینہ سے منظوری کی صورت میں گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات سونپے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد گورنر صوبے کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اس کے علاوہ بے امنی کا شکار خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع (ایکس فاٹا کے 8 اضلاع اور ڈی آئی خان، لکی مروت، کرک و کوہاٹ) کے انتظامی امور کو الگ سے دیکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جن کا کنٹرول براہِ راست وفاق کے پاس ہوگا اور ان کے لیے ایکس فاٹا کے کسی ضلع میں الگ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کریں گے۔
اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو خصوصی سکیورٹی رپورٹس بھی پیش کی گئیں، جن میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران صوبے میں دہشت گردانہ حملوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سی ٹی ڈی کو تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید انفراسٹرکچر اور آپریشنل سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے صوبائی استعداد، ادارہ جاتی کمزوریوں اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں موجود خلا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب، سیاسی رفت و آمد کے سلسلے میں سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے صبح 6 بجے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو پی ٹی آئی قیادت اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے ہونے والی حالیہ ملاقاتوں اور مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ آئندہ کے حتمی فیصلوں کی منظوری وزارتِ قانون اور وزارتِ داخلہ کی سفارشات کی روشنی میں دے گی۔