نئی دہلی(کیو این این ورلڈ)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف پولیس نے سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اہم سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
یہ احتجاج ووٹر لسٹوں میں کی گئی ان متنازع ترامیم کے خلاف کیا جا رہا تھا جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ ان سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ سیاسی فائدہ پہنچتا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے وسطی دہلی میں مظاہرے کے مقررہ مقام ‘جنتر منتر’ کو پہلے ہی سیل کر دیا تھا اور پورے شہر کو شدید سیکیورٹی حصار میں لے لیا۔
انتظامیہ نے احتجاج کو روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کیے، مرکزی تجارتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی جبکہ درجنوں میٹرو اسٹیشنز اور بازار بھی بند کر دیے گئے۔ اس تمام تر سختی کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے پھوٹ پڑے۔
پولیس کریک ڈاؤن کے دوران کئی نمایاں سیاسی شخصیات کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی (جنہیں بس اسٹینڈ کے قریب دھرنا دیتے ہوئے حراست میں لیا گیا) اور عام آدمی پارٹی کے رہنما و دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے، ان کی پارٹی کے رہنما سورو داس اور آسوتوش رانکا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا، سی پی آئی کے جنرل سیکرٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن اور معروف سیاستدان یوگیندر یادو کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے مظاہرین کو ‘انتشار پسند عناصر’ قرار دیتے ہوئے اس احتجاج کو ایک ناکام شو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر پورے بھارت کی عکاسی نہیں کرتیں، ملک پرسکون ہے اور اچھی طرزِ حکمرانی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔