ٹرمپ تم بھول گئے وینزویلا، غزہ اور ایران!
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفے بڈانی
نوبیل امن انعام دنیا بھر میں امن قائم کرنے، جنگ و جدل کی آلاؤ کو بجھانے، اور قوموں کے درمیان انسانیت، یگانگت اور یکجہتی کو فروغ دینے والے عظیم انسانوں کو اعترافِ خدمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز کسی سیاسی مفاد، عسکری دباؤ یا زبردستی کے استحقاق کا مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی عملی جدوجہد سے ہے۔ سال 2026 میں یہ تاریخی اور باوقار اعزاز جنوبی افریقہ کی معروف و ممتاز قانون دان اور انسانی حقوق کی بے باک فعال رہنما ناوینیٹہم (ناوی) پلے کو دینے کا اعلان کیا گیا۔ ناوی پلے نے اپنی پوری زندگی نسلی امتیاز کے جابرانہ اور سفاکانہ نظام کے خلاف مسلسل جدوجہد، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور جنگی جرائم و نسل کشی کے مرتکب ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے وقف کی۔
اس بین الاقوامی اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ری پبلکن امیدواروں کی ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اندر کے غصے اور شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے نہایت تکبرانہ انداز میں دعویٰ کیا کہ امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ امن انعام درحقیقت انہیں ملنا چاہیے تھا کیونکہ ان کے بقول انہوں نے دنیا بھر میں متعدد جنگیں اور پیچیدہ تنازعات ختم کرائے ہیں۔ ٹرمپ نے ناوی پلے کی طویل انسانی خدمات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جسے دنیا میں کوئی نہیں جانتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نوبیل کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے فیصلے کو ناروے کی تاریخ اور ساکھ پر ایک ایسا بدنماداغ قرار دیا جو کبھی نہیں مٹ سکے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ناروے کے اس رویے کو کبھی نہیں بھولے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کو جنگ، تباہی اور معاشی بحرانوں میں دھکیلنے والا شخص خود کو نوبیل امن انعام کا حقدار قرار دے سکتا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی حامی اکثر و بیشتر ابراہم ایکارڈز اور چند زبردستی کے سفارتی معاہدوں کا حوالہ دے کر موصوف کو امن کا سب سے بڑا علمبردار اور طاقتور ثالث پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہم ایکارڈز کی زبردستی توسیع اور نام نہاد امن معاہدوں کے پیچھے امریکہ کی جابرانہ اور استحصالی سفارت کاری کارفرما رہی ہے۔ مختلف ممالک کو گن پوائنٹ پر لا کر، معاشی پابندیوں اور بلیک میلنگ کی دھمکیاں دے کر، مجبور کیا گیا کہ وہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور تاریخی مظالم کو پسِ پشت ڈالیں اور اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اسے تسلیم کریں۔ یہ تمام جتن محض اسرائیل کی بالادستی، اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی تقویت اور خطے کے ممالک پر ناجائز اثر و رسوخ کے لیے کیے گئے۔ اگر 2025 اور 2026 کے عالمی منظر نامے اور ہولناک واقعات پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالی جائے تو امریکی جارحیت، فوجی مداخلتوں اور معاشی ناکہ بندیوں کی ایک طویل اور شاطرانہ فہرست سامنے آتی ہے جس نے دنیا کے امن کو تار تار کر دیا ہے۔
فروری 2026 میں امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کا آغاز کیا، جسے طاقت کے گھمنڈ میں آپریشن Epic Fury کا نام دیا گیا۔ اس تباہ کن عسکری کارروائی میں ایرانی اعلیٰ سیاسی و مذہبی قیادت، حساس عسکری تنصیبات اور جوہری مراکز کو برباد کرنے کے کھلم کھلا اہداف بنائے گئے۔ یہی نہیں بلکہ تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم شاہراہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی گئی جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔ اس جنگی جنون کے باعث عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمتیں تیزی سے چھلانگ لگاتی ہوئی 107 سے 108 ڈالر فی بیرل کی ہوشربا سطح تک پہنچ گئیں۔ تیل کی قیمتوں میں اس ناگہانی اور بے تحاشا اضافے نے دنیا بھر کی معیشتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ عالمی سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہو گئی، افراطِ زر نے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے عوام کا جینا دوبھر کر دیا، اور کئی ممالک کے معاشی ڈھانچے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے زبانی جمع خرچ کرتے ہوئے بار بار یہ راگ الاپا کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور امریکی مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے مزید بڑے حملوں سے گریز کا ڈھونگ رچایا مگر حقیقت میں تنازع کی آگ بھڑک رہی ہے اور عالمی معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔
لاطینی امریکہ میں اپنے سامراجی اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لیے جنوری 2026 میں امریکی مسلح افواج نے وینزویلا کے منتخب صدر نیکولس مادورو کو ایک کارروائی میں گرفتار کر کے زبردستی امریکہ منتقل کر دیا۔ ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور نارکو ٹیررازم جیسے سنگین الزامات عاید کیے گئے۔ اس فوجی کارروائی کے ساتھ ہی بحیرہ کیریبین میں امریکی بحریہ کی بڑی عسکری تعیناتی کی گئی، منشیات کے نام پر مشکوک جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور وینزویلا کے وسیع ترین تیل کے ذخائر پر امریکی کمپنیوں کے قبضے اور رسائی کی راہ ہموار کی گئی۔ مادورو کو ہٹانے کے بعد بھی وینزویلا میں نہ تو جمہوریت بحال ہوئی اور نہ ہی امن قائم ہو سکا بلکہ شدید سیاسی عدم استحکام اور انتشار نے جنم لیا۔ امریکی سرپرستی میں مقامی سیاسی عمل میں براہِ راست مداخلت اور وسائل کی لوٹ مار نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کا اصل مقصد امن نہیں بلکہ لاطینی امریکہ کی آزادی اور خود مختاری کا گلا گھونٹنا تھا۔
غزہ میں جاری بدترین انسانی بحران، بمباری اور عام شہریوں کے قتلِ عام پر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی انتہائی سفاکانہ اور یکطرفہ رہی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ اور دنیا بھر کے دردِ دل رکھنے والے انسانوں کی دہائیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے امریکہ نے اسرائیلی جارحیت کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور عسکری حمایت جاری رکھی۔ امریکی پشت پناہی اور ویٹو پاور کے بے جا استعمال نے خطے میں کسی بھی ممکنہ اور پائیدار حل کی تلاش کو ناگزیر طور پر ناممکن بنا دیا۔ ہزاروں بے گناہ بچوں، عورتوں اور شہریوں کے خون سے ہتھلیوں کو رنگنے والے اقدامات کی سرپرستی کرنے والا شخص جب امن کا دعویٰ کرتا ہے تو تاریخ اس کی منافقت پر ماتم کرتی ہے۔
یمن اور بحیرہ احمر کے محاذ پر ٹرمپ انتظامیہ نے ایک طے شدہ اور غیر رسمی سمجھوتہ برقرار رکھا۔ امریکہ نے حوثیوں پر براہِ راست اتنے حملے کرنے سے گریز کیا جس سے اس کی اپنی فوجی تنصیبات یا تجارتی مفادات خطرے میں پڑیں جبکہ دوسری طرف وہ خطے کے دیگر ممالک کو محدود انٹیلی جنس اور معاونت فراہم کر کے تنازع کی آگ کو دھیمی انچ پر جلتا رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہا۔ اس طرح کے دوہرے معیار اور شاطرانہ توازن نے خطے کو مسلسل خوف اور تناؤ کی فضا میں مبتلا رکھا۔
امریکی صدر کے اس تمام تر طیش، غصے اور بچگانہ رویے پر نوبیل امن انعام یافتہ ناوی پلے نے جس وقار اور شگفتگی کے ساتھ ردِعمل دیا، اس نے ٹرمپ کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلکے پھلکے اور طنزِ لطیف کے انداز میں کہا کہ اگر دنیا کے لوگ میرے لیے تھوڑی تالیاں اور بجائیں، تو شاید میں اپنا یہ انعام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شیئر کرنے پر غور کر لوں۔ یہ مختصر مگر بلیغ جملہ دنیا کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ حقیقی امن کے داعی اور انسانیت کے خدمتگار کسی تمغے، سیاسی بلیک میلنگ یا اقتدار کے بھوکے حکمرانوں کی سند کے محتاج نہیں ہوتے۔
خود کو دنیا کا طاقتور ترین شخص اور خود ساختہ امن کا ٹھیکیدار سمجھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ چاہے جتنے بھی بلند بانگ دعوے کر لیں، 2026 کے تلخ حقائق دنیا کے سامنے ننگے ہو چکے ہیں۔ ایران پر ناجائز جنگ کا مسلط کرنا، وینزویلا کی خودمختاری پر شب خون مارنا، غزہ کے مظلوموں کی نسل کشی میں شراکت دار بننا اور عالمی معیشت کو تباہی کے گھاٹ اتارنا ہی ان کا اصل نامۂ اعمال ہے۔ نوبیل کمیٹی کا فیصلہ مکمل طور پر آزادانہ اور حقائق پر مبنی تھا جس میں کسی سیاسی دباؤ کا نام و نشان نہیں تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے پر چاہے جتنا بھی واویلا مچا لیں یا ناروے کو دھمکیاں دے دیں، مگر تاریخ ہمیشہ ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں بہنے والے خون، معاشی تباہی اور انسانی سوز کے حقائق کو یاد رکھے گی۔ ٹرمپ شاید تاریخ کے اوراق کو بھول گئے ہوں گے لیکن دنیا وینزویلا، غزہ اور ایران کے مظلوموں کی آہ و بقا اور امریکی جارحیت کو کبھی نہیں بھولے گی۔
