گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) جروار شہر میں آٹا 5750 روپے فی من فروخت ہونے لگا، جس پر شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے اور آٹے کی قیمتوں و وزن کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کے مطابق مہنگائی کے باعث پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے، ایسے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے عام صارفین کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جروار شہر میں آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے اور سرکاری نرخ نامے کے مطابق فروخت یقینی بنائی جائے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ خوراک سندھ سے اپیل کی ہے کہ جروار سمیت میرپور ماتھیلو، ڈہرکی، اوباڑو اور خانپور مہر کی مارکیٹوں میں آٹے کی قیمتوں، دستیابی اور وزن کی جانچ کی جائے۔ دکانوں پر سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کرائے جائیں تاکہ صارفین کو مقررہ نرخوں سے آگاہی حاصل ہو سکے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے یا کم وزن دینے کی شکایت ثابت ہونے پر متعلقہ دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر آٹے کے سرکاری نرخ اور دستیابی کی صورتِ حال واضح کی جائے تاکہ شہریوں کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔