مشرقی بیلجیئم کے شہر لیج میں تعلیمی اصلاحات اور ٹیوشن فیسوں میں اضافے کے منصوبوں کے خلاف طلبا کے احتجاج کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، جس پر سیکیورٹی حکام کو الرٹ کردیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں کے دوران احتجاجی مقامات پر مجموعی طور پر 107 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاریاں املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش زنی سمیت مختلف الزامات کے تحت عمل میں لائی گئیں۔
احتجاج کے پیش نظر بیلجیئم کے سرکاری الرٹ سسٹم نے شہر کے تاجروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کاروبار معمول کے وقت سے پہلے بند کردیں۔ حکام نے شہریوں کو بھی شہر کے مرکز میں غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
احتجاج کے دوران سینٹرل اسٹیشن کو عارضی طور پر بند کردیا گیا، جس کے باعث شہر میں ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ پولیس کی بھاری نفری نے مختلف مقامات پر تعینات ہوکر مظاہرین کی نقل و حرکت کو محدود کیا اور شرکاء کی جانچ پڑتال بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کی بنیادی وجہ فرانسیسی زبان والے تعلیمی حکام کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے اصلاحاتی منصوبے ہیں۔ طلبا اور دیگر احتجاجی حلقے بالخصوص ٹیوشن فیس میں مجوزہ اضافے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں بھی طلبا کی جانب سے تعلیمی پالیسیوں اور حالات کے حوالے سے مظاہرے کیے گئے ہیں۔ تاہم بیلجیئم میں احتجاج کی اپنی مقامی وجوہات ہیں اور اس کا مرکزی معاملہ تعلیمی اصلاحات اور فیسوں میں اضافے سے متعلق بتایا جارہا ہے۔
پولیس اور مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو صورتحال پر نظر رکھنے اور حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
واضح رہے کہ بیلجیئم میں فرانسیسی، ڈچ اور جرمن تین سرکاری زبانیں ہیں، جبکہ لیج ملک کے فرانسیسی زبان بولنے والے والونیا خطے کا اہم شہر ہے۔