اظہر سجاد کے افسانوں کا مجموعہ: ”تیسری دیوار“
تبصرہ نگار: ظفر اقبال ظفر
کتاب ”تیسری دیوار“ مصنف اظہر سجاد کا تحریر کردہ ایک اردو افسانوی مجموعہ ہے، جس میں ”لوح شب“ اور ”مُجاور“ جیسی مختلف دلچسپ اور فکری کہانیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس مجموعے کے ذریعے معاشرتی مسائل، انسانی نفسیات اور باطنی کشمکش کو انتہائی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ادبی کام میں تخلیقی عمل، تنہائی اور وجودی سوالات پر گہرے نقوش چھوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دیباچے میں ڈاکٹر وزیر آغا کا قول نقل کیا گیا ہے کہ تخلیقی عمل بنیادی طور پر وہ عمل ہے جس کی مدد سے انسان اپنے ہی وجود کی بامشقت قید سے رہائی پاتا ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی شے مسلسل ایک مدار میں گھومنے کے بعد اچانک ایک نئے اور کشادہ تر مدار میں چلی جائے۔ مصنف کے نزدیک تخلیقی عمل ذات اور کائنات کے دھندلائے ہوئے بند دروازوں کو کھولتا ہے—ایک ایسی مسلسل بے چینی اور اندرونی دباؤ کا عالم جو لفظ بننے کی ضد کرتے ہیں۔ مصنف کے لیے تخلیقی عمل محض اپنے خیالات کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ ایک باطنی کشف ہے جس کے ذریعے انہوں نے خود کو سمجھنے، ترتیب دینے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہر دور کا ادب کسی نہ کسی داخلی یا خارجی دباؤ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے؛ جب مشاہدات، احساسات، تنہائیوں اور شعور و لاشعور کی دہلیز پر کھڑے ان گنت سوالات کو لفظوں کا روپ دیا جائے تو افسانہ تخلیق کار کے لیے ایک دوست، رہنما اور ہمدرد بن جاتا ہے۔ اظہر سجاد کے افسانوی مجموعے ”تیسری دیوار“ میں شامل افسانے تنوع اور فکری گہرائی کے حامل ہیں، جن میں انسانی وجود کی حقیقت، اس کا مقصد اور شناخت کی تلاش ایک مرکزی موضوع کے طور پر ابھرتی ہے۔
کردار اکثر سچ اور وہم یا زندگی اور موت کی درمیانی کیفیات سے نبرد آزما نظر آتے ہیں۔ مصنف نے انسان کی گہری باطنی تنہائی، نفسیاتی الجھنوں اور اندرونی دباؤ کو کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ یہ افسانے ان لاجواب سوالات کی عکاسی کرتے ہیں جو انسان کے اندر خاموشی سے پرورش پاتے رہتے ہیں۔ اکثر افسانوں میں خواب اور حقیقت کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔
ناقدین کے مطابق یہ افسانے سونے اور جاگنے، یا روشنی اور تاریکی سے ہٹ کر کسی ”تیسری تصویر“ یا نادیدہ کیفیت کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہانیوں میں علامات اور تجرید (جیسے اینٹوں کا ڈھیر، لچکدار شفاف دیواریں یا چمکیلا سانپ) کا گہرا استعمال ملتا ہے۔ بعض افسانوں میں عام انسان کی معاشی ناہمواری، بے روزگاری اور بے بسی کی عکاسی کی گئی ہے، جہاں غریب انسان اپنے سر چھپانے اور بنیادی ضروریات کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔
کئی کردار انجانے خوف، ماضی کی تلخ یادوں یا گمنامی کے احساس میں گھِرے ہوئے ہیں، جو ان کے ذہنوں پر ایک مسلسل دباؤ برقرار رکھتا ہے۔ کہانی کا راوی ایک پراسرار وجود ہے جو خود کو کسی کھوئے ہوئے لمحے اور نوادرات کی دنیا سے وابستہ محسوس کرتا ہے۔
”تیسری دیوار“ (عنواناتی افسانہ) خواب، لاشعور اور شعور کے درمیان موجود کسی تیسری نادیدہ پرت اور انسانی وجود کی حد بندیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ”دیوار کیا گری“ معاشی جبر، غریب انسان کی بے بسی اور حادثات کے بعد معاشرتی رویوں کی تلخ عکاسی کرتا ہے۔ ”لوحِ شب“ اساطیری فضا میں خوف، گناہ اور باطنی کشمکش کو سامنے لاتا ہے۔ ”مجاور“ عقیدت، درگاہ کے ماحول اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا جائزہ لیتا ہے۔ ”شور“ یا ”خالی“ وجودی تنہائی، گمنامی اور اندرونی بے چینی کے موضوعات پر مبنی ہیں۔ ”تاوان“ یا ”خواب کہانی“ ناگہانی واقعات، خوف اور ذہن پر حاوی خواب ناک کیفیات کو موضوع بناتے ہیں۔
فکر، مشاہدے اور باطنی تجربات کا امتزاج: ”تیسری دیوار“ میں مصنف اظہر سجاد کے ہاں فکر و مشاہدہ، جمالیاتی احساس اور زبان و بیان کا ایک فنی توازن نظر آتا ہے۔ وہ محض دیکھا ہوا منظر یا سنی سنائی باتیں نہیں لکھتے، بلکہ کہانی کو اپنے کرب اور تخیل میں جی کر باطنی تجربے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں تجرید اور علامت نگاری کی گہری چاشنی ملتی ہے۔
وہ اشیاء اور مناظر (مثلاً اینٹوں کا ڈھیر، چمکیلا سانپ، پرانے برتن وغیرہ) کو اس انداز سے علامتی روپ دیتے ہیں کہ وہ انسانی خواہشات، باطنی اضطراب اور تعمیر و تخریب کے استعارے بن جاتے ہیں۔ کہانیوں کا ساختار اکثر خواب کی طرح بے ترتیب، گنجلک اور لاشعوری تجربات پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کے افسانے سیدھے سادھے روایتی پلاٹ کے بجائے پے در پے بدلتے واقعات اور ذہنی کساؤ کے گرد گھومتے ہیں، جہاں شعور و لاشعور اور روشنی و تاریکی کے درمیان حائل دھندلی لکیریں نمایاں ہوتی ہیں۔
ان کی تحریریں تہہ در تہہ فکری پرتوں میں ملفوف ہیں۔ ان کے ہاں کا ابہام محض لفظی چکر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تخیلاتی گہرائی کا نتیجہ ہے جو قاری کو متن کے باطن میں جھانکنے اور پوشیدہ مطالب کو محسوس کرنے پر اکساتا ہے۔ افسانوں میں مستعمل زبان بظاہر سادہ ہوتی ہے، لیکن جملے اس قدر بے ساختگی سے کردار اور کہانی کی فضا میں پیوست ہوتے ہیں کہ کہانی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔
ہر افسانے کا آغاز اپنے اندر حیرت اور تجسس کا وافر سامان لیے ہوئے ہے، جو رفتہ رفتہ قاری کی دلچسپی کو بڑھاتے ہوئے کہانی کے اختتام تک گرفت میں رکھتا ہے۔ ان کا طرزِ تحریر انسان کی باطنی تنہائی، شناخت کی تلاش، اور نفسیاتی رویوں کو انتہائی حسّاس انداز میں اجاگر کرتا ہے۔ ہر کہانی کی تکنیک بالکل خواب کے عوامل کی طرح بے ترتیب، گنجلک اور لاشعوری تجربات پر رکھی گئی ہے۔
افسانوں میں علامتیں غیر محسوس انداز میں برتی گئی ہیں جو قاری کی فہم کے مطابق مختلف ابعاد اور جہتیں بناتی ہیں۔ افسانے کی زبان سادہ ہے جو رفتہ رفتہ مضمون کو مہارت سے اپنی گرفت میں لیتی ہے اور حیرت و تجسس کو بڑھاتی ہے۔ اظہر سجاد کے افسانوں میں فکر و مشاہدہ، جمالیاتی احساس اور زبان و بیان کا شعور نئی وضع داری کا بہترین نظام قائم کرتا ہے۔
وہ سنی سنائی یا صرف مشاہدہ کی ہوئی کہانیاں نہیں لکھتے، بلکہ پہلے کہانی کو جیتے ہیں، اس کے کرب سے گزرتے ہیں اور پھر تخیل کو مہمیز لگاتے ہیں۔ ان کے ہاں ابہام یا تجرید محض لفظی یا اسلوباتی سطح کی نہیں، بلکہ تخیلاتی سطح پر تھاٹھیں مارتے سمندر کی مانند ہے جس میں اتھلے پن کی جگہ گہری فکری پرتیں موجود ہیں۔

