لانگ مارچ – بربادی کس کی
تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ
عوام پریشان، ٹرانسپورٹر خوار، اسلام آباد کنٹینروں کا شہر آخر یہ کس کی نوید سنائی جارہی ہے
پاکستان کی سیاست میں احتجاج، جلسہ، ریلی اور لانگ مارچ کوئی نئی روایت نہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات عوام تک پہنچانے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال، ریاستی تنصیبات اور معمول کی زندگی کا تحفظ کرے۔
لیکن سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سیاسی کشمکش کا میدان سڑکیں بن جائیں، سڑکوں پر کنٹینر کھڑے ہوجائیں، کاروبار متاثر ہو، مسافر راستوں میں پھنس جائیں اور ایک سیاسی مطالبے کی قیمت پورا معاشرہ ادا کرنے لگے۔
آج کا بنیادی سوال یہی ہے:
آخر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟
کیا ہم سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا عوام کو سیاست کی کشمکش میں یرغمال بنانا چاہتے ہیں؟
حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے راستوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھے گئے اور سکیورٹی انتظامات غیر معمولی سطح تک پہنچے۔ رپورٹس کے مطابق دارالحکومت اور اٹک کے اہم مقامات پر ہزاروں کنٹینرز تعینات کیے گئے جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد ہر ضلع سے بھی طلب کی گئی۔
یہ صرف ایک سیاسی جماعت اور حکومت کا معاملہ نہیں رہا۔ اس کا براہِ راست تعلق اس شہری سے ہے جو روزانہ روزگار کے لیے گھر سے نکلتا ہے، اس طالب علم سے ہے جو تعلیمی ادارے پہنچتا ہے، اس مریض سے ہے جسے ہسپتال جانا ہوتا ہے، اس دکاندار سے ہے جس کی روزانہ کی فروخت پر گھر کا چولہا جلتا ہے اور اس ٹرانسپورٹر سے ہے جس کا ٹرک ملکی معیشت کا سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچاتا ہے۔
ہم اکثر سڑک پر کھڑے کنٹینر کو صرف ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے ایک پورا معاشی نظام موجود ہوتا ہے۔
کنٹینر کسی ٹرانسپورٹر کی ملکیت ہوسکتا ہے، اس کے اندر کروڑوں روپے کا سامان ہوسکتا ہے، ڈرائیور اور ہیلپر اس کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، گاڑی کے مالک کی روزانہ آمدنی اس سے وابستہ ہوتی ہے اور سامان کی منزل تک بروقت پہنچنا کاروباری زنجیر کا حصہ ہوتا ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے حالیہ صورتِ حال میں شکایت کی کہ ان کے کنٹینر اور گاڑیاں سیاسی احتجاج کی روک تھام کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ سے وابستہ نمائندوں نے مالی نقصان اور گاڑیوں و عملے کو روکنے پر تحفظات ظاہر کیے۔
اگر کسی ٹرانسپورٹر کی گاڑی کئی دن کھڑی رہے تو اس کا نقصان صرف مالک تک محدود نہیں رہتا۔ ڈرائیور کی آمدنی، کاروباری سپلائی، صنعت کا خام مال، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی احتجاج کے ساتھ ساتھ معاشی نقصان کا حساب بھی ضروری ہے۔
ایک عام شہری نہ حکومت کا وزیر ہے، نہ اپوزیشن کا رہنما، نہ سیاسی جماعت کا فیصلہ ساز۔
وہ صرف اپنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، راشن اور روزگار کی فکر میں ہے۔
جب سڑک بند ہوتی ہے تو سیاسی رہنما شاید پریس کانفرنس میں پہنچ جاتا ہے، حکومتی نمائندہ اپنے دفتر میں موجود ہوتا ہے اور طاقتور طبقہ متبادل راستہ تلاش کرلیتا ہے۔
لیکن روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اگر ایک دن کام پر نہ پہنچ سکے تو اس کے گھر کا چولہا متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح مریض کے لیے راستہ بند ہونا محض ٹریفک کا مسئلہ نہیں؛ بعض حالات میں یہ زندگی اور موت کا سوال بن سکتا ہے۔
اسلام آباد کے شہریوں کی طرف سے بھی ایسے ہی خدشات سامنے آئے ہیں کہ مسلسل رکاوٹیں معمول کی نقل و حرکت، تعلیم، روزگار اور ہسپتالوں تک رسائی کو متاثر کرسکتی ہیں۔
احتجاج کرنے والے شہری بھی پاکستانی ہیں اور احتجاج کو کنٹرول کرنے والے پولیس اہلکار بھی پاکستانی ہیں۔
یہ پہلو بھی ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔
ایک طرف سیاسی کارکن اپنے مطالبات کے لیے سڑک پر آتا ہے، دوسری طرف پولیس اور سکیورٹی اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ دونوں طرف پاکستانی شہری موجود ہیں۔
سیاسی اختلاف اگر تصادم میں تبدیل ہوجائے تو نقصان صرف ایک فریق کا نہیں ہوتا۔
ہر پولیس اہلکار کے پیچھے بھی ایک خاندان ہے۔ وہ بھی کسی کا بیٹا، باپ، بھائی یا شوہر ہے۔ اسی طرح احتجاج میں آنے والے کارکن بھی کسی گھر کے افراد ہیں۔
اس لیے سیاسی اختلاف کو ایسی کشمکش میں تبدیل کرنا جس میں ریاستی اہلکار اور شہری ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں، معاشرے کے لیے طویل المدت نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
حکومت کا موقف یہ ہے کہ بڑے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، حساس تنصیبات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ بعض اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں۔
یہ ذمہ داری اپنی جگہ مسلم ہے۔
لیکن ریاستی طاقت کا استعمال جتنا ضروری ہو، اتنا ہی متناسب، محدود، قانونی اور شہری زندگی کو کم سے کم متاثر کرنے والا ہونا چاہیے۔
سڑکوں کو مکمل طور پر بند کرنا ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔
اگر کسی مخصوص مقام پر احتجاج کا امکان ہے تو متبادل راستے، مخصوص احتجاجی مقامات، محدود ٹریفک پلان اور ہسپتالوں و ایمرجنسی سروسز کے لیے خصوصی راستے پہلے سے یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سارا بوجھ صرف حکومت پر ہے۔
سیاسی جماعتیں بھی عوام کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اگر وہ عوام کے حقوق کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ عوام کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
احتجاج کا مقصد اگر عوام کے مسائل اجاگر کرنا ہے تو ایسا احتجاج کیوں ہو جو سب سے پہلے عوام ہی کے لیے مسئلہ بن جائے؟
جمہوری احتجاج کی اصل طاقت اس کے پرامن، منظم اور واضح مطالبات میں ہوتی ہے، نہ کہ سڑکیں بند کرنے یا ریاستی اداروں سے ٹکراؤ میں۔
حالیہ انتظامات کے مالی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صرف 1,550 کنٹینرز کا یومیہ کرایہ تقریباً 46.5 ملین روپے بتایا گیا ہے، جبکہ احتجاج مؤخر ہونے سے سکیورٹی انتظامات کی مجموعی لاگت ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
یہ رقم صرف ایک خبر کی سرخی نہیں۔
یہ عوام کے ٹیکس سے وابستہ سوال ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر کروڑوں روپے صرف سیاسی تصادم کی تیاری میں خرچ ہوجائیں تو ان پیسوں سے کتنے اسکول بہتر ہوسکتے تھے؟ کتنے بنیادی مراکز صحت کو سہولیات مل سکتی تھیں؟ کتنی دیہی سڑکیں تعمیر ہوسکتی تھیں؟ کتنے نوجوانوں کے لیے ہنر سکھانے کے مراکز قائم ہوسکتے تھے؟
یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کے سامنے ہے۔
پاکستان کو احتجاج کا حق بھی چاہیے اور معمول کی زندگی بھی۔
حکومت کو قانون نافذ کرنا ہے تو قانون کے مطابق کرے۔ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنا ہے تو آئینی اور قانونی دائرے میں کریں۔ انتظامیہ کو سکیورٹی فراہم کرنی ہے تو عوامی سہولت کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرے۔
بات چیت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔
اگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے تو سڑکیں ہی مذاکرات کی میز بن جائیں گی، اور جب سڑکیں مذاکرات کی میز بن جائیں تو پورا معاشرہ اس کا کرایہ ادا کرتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، سکیورٹی چیلنجز اور ادارہ جاتی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں ملک کو سیاسی اختلاف ختم کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ سیاسی اختلاف کو منظم اور آئینی طریقے سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
آخر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟
یہ سب سے بڑا سوال ہے۔
ہم اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنانا چاہتے ہیں یا پاکستان کو ترقی کا شہر؟
ہم ایک دوسرے کو شکست دینا چاہتے ہیں یا اپنے مسائل کو شکست دینا چاہتے ہیں؟
ہم پولیس کو سیاسی کشمکش کا فریق بنانا چاہتے ہیں یا اسے عوام کی حفاظت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں؟
ہم ٹرانسپورٹر کے پہیے روکنا چاہتے ہیں یا معیشت کا پہیہ چلانا چاہتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر:کیا ہماری سیاست کا مقصد اقتدار کی جنگ ہے یا عوام کی زندگی آسان بنانا؟
سیاسی اختلاف رہے، احتجاج بھی ہو، حکومت پر تنقید بھی ہو، مطالبات بھی پیش کیے جائیں، مگر ایسا راستہ ضرور نکالا جائے جس میں ریاست بھی محفوظ رہے، شہری بھی محفوظ رہیں، معیشت بھی چلتی رہے اور سیاسی کارکن بھی اپنے آئینی حق سے محروم نہ ہوں۔
لانگ مارچ چند دن کا واقعہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کے معاشی، سماجی اور سیاسی اثرات طویل ہوسکتے ہیں۔
اس لیے آج پاکستان کو کسی ایک جماعت کی فتح یا شکست سے زیادہ ایک ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے، احتجاج تصادم نہ بنے، ریاست طاقت کا بے دریغ مظاہرہ نہ کرے اور عوام سیاسی کشمکش کی قیمت ادا نہ کریں۔
ملک سڑکوں کی بندش سے نہیں، راستے کھولنے سے آگے بڑھتا ہے۔
یہی وقت ہے کہ ہم سوچیں:
ہمیں کنٹینروں کا پاکستان چاہیے یا ترقی کی شاہراہوں والا پاکستان؟
موجودہ تناؤ میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا ہوگا ورنہ یہ سلسلہ ملک کے معاشی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ لے گا اور ملک ترقی کی بجائے معاشی اور معاشرتی سطح پر مزید کمزور ہو جائے گا ۔
ہم کئی دہائیوں سے سیاست کو معاشی ترقی کی بجائے انتقامی سیاست میں ڈھال چکے ہیں ہمیں ملک کی ترقی اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ہوگی
