بارڈر کھولا جائے، ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، مفتی اعجاز شینواری

لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف): پاک افغان طورخم بارڈر کی طویل بندش کے باعث ملکی معیشت، مقامی کاروبار اور مزدور طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے، جبکہ تاجروں، ٹرانسپورٹرز، کسٹم ایجنٹس اور محنت کشوں سمیت ہزاروں افراد بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام (ف) فاٹا کے سینئر نائب امیر مفتی محمد اعجاز شینواری، قومی مشر ملک سعد اللہ شینواری اور دیگر مشران نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مفتی محمد اعجاز شینواری نے کہا کہ پاک افغان طورخم بارڈر 12 اکتوبر 2025 کو بند کیا گیا تھا اور اب بندش کو ایک سال مکمل ہونے کے قریب ہے، تاہم بارڈر کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات بدستور برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل بندش نے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں روزگار سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی بھی اجیرن بنا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر بند ہونے سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور کسٹم ایجنٹس سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ غریب مزدور طبقے کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہونے سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور بہت سے خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

مفتی اعجاز شینواری کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش سے پہلے متعدد افراد لاکھوں روپے کا سرمایہ رکھتے تھے اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے، لیکن آج وہی لوگ خود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق سرحدی تجارت سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں صرف تاجروں تک محدود نہیں بلکہ ان سے مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، کسٹم ایجنٹس اور دیگر متعلقہ شعبوں کے افراد کا روزگار بھی وابستہ ہے، اس لیے بارڈر کی بندش کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے پشتون قیادت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے لیے مثبت اور فعال کردار ادا کیا جائے اور طورخم بارڈر کی بندش کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ تجارت بحال ہو اور روزگار سے محروم افراد دوبارہ اپنے کام کا آغاز کر سکیں۔

میٹ دی پریس سے خطاب کرنے والے مشران نے بھی بارڈر کی بندش سے متاثرہ تاجروں، مزدوروں اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات کی جانب توجہ دلائی اور اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

مشران کا مطالبہ تھا کہ پاک افغان مذاکرات کے ذریعے ایسا قابلِ عمل حل نکالا جائے جس سے طورخم بارڈر تجارت کے لیے کھولا جا سکے، معاشی سرگرمیاں بحال ہوں اور سرحدی علاقوں میں بے روزگاری اور مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کو ریلیف مل سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے