خیبر (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار نورحلیم آفریدی)باڑہ میں برقمبرخیل قوم نے معدنیات سے متعلق امور میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قومی مشاورت کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تمام لیزیں فوری منسوخ کرنے اور نئے سرے سے شفاف طریقہ کار کے تحت عمل کا آغاز کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار قوم کے نمائندے احمد جان نے باڑہ پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ حاجی انعام، قاسم گل، واصل اور عبدالصمد سمیت دیگر قومی مشران اور کشران بھی موجود تھے۔
پریس کانفرنس کے دوران تفاصیل بتاتے ہوئے مشران نے کہا کہ برقمبرخیل کی مختلف شاخوں پر مشتمل قومی مجلسِ عام نے باقاعدہ مشاورت کے بعد معدنیاتی امور کے لیے متفقہ طور پر احمد جان ولد فقیر جان کا نام فائنل کیا تھا اور اس مقصد کے لیے فنڈز کا بھی انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں ‘مسلم انصاف مائننگ پرائیویٹ لمیٹڈ’ کے نام سے کمپنی قائم کی گئی اور دفتری امور چلانے کے لیے واجد علی ولد لال ور خان کو بطور منشی تعینات کیا گیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بعد میں یہ حقائق سامنے آئے کہ احمد جان کا نام پسِ پشت ڈال کر مبینہ طور پر واجد علی کا نام استعمال کیا گیا اور احمد جان کو محض ایک اسسٹنٹ کی حیثیت سے رکھا گیا۔ اس سنگین دھوکہ دہی اور بے ضابطگی پر قوم میں شدید تشویش لہر دوڑ گئی ہے اور متعلقہ افراد سے اس کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
قومی مشران نے مزید بتایا کہ اورنگزیب نامی شخص کے نام پر بھی قوم کو اعتماد میں لیے بغیر مبینہ طور پر چار لیزیں حاصل کی گئیں۔ اس تمام عمل کے دوران نہ تو کوئی باقاعدہ مجلسِ عام بلائی گئی، نہ ہی عوام کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی اشتہار جاری کیا گیا، جو کہ سراسر غیر قانونی اور قومی مفادات کے خلاف ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مشران نے متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ قوم کی مشاورت کے بغیر جاری کی گئی تمام لیزیں فوری منسوخ کی جائیں، معدنیاتی امور کے تمام حساب کتاب کی تفصیلات قوم کے سامنے پیش کی جائیں اور تمام معاملات کو مستقبل میں مکمل قومی مشاورت اور شفافیت کے ساتھ نئے سرے سے طے کیا جائے۔