اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان، اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی افواہوں کے درمیان وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست مذاکرات کا عمل آج جمعہ کو شروع ہو رہا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا تھا، جسے اپوزیشن رہنماؤں کے مشاورت پر مبنی اجلاس میں قبول کر لیا گیا۔ حکومتی اور اپوزیشن وفود آج دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفتر میں ملاقات کریں گے۔
پی ٹی آئی نے اصل میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا۔ پارٹی کا بنیادی مطالبہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقاتیں، طبی علاج کی سہولت، اور آئینی بالادستی کی بحالی ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ احتجاج پرامن اور سیاسی ہوگا، اور اسلام آباد کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اس کے متوازی طور پر خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے رویے پر وفاقی حکومت کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے اختیارات پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ یہ آپشنز ٹیبل پر ہیں، خاص طور پر اگر صوبائی حکومت غیر آئینی سرگرمیوں میں ملوث پائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آف دی ریکارڈ مذاکرات جاری تھے، اور اگر لانگ مارچ منسوخ نہ کیا گیا تو اسلام آباد میں داخلے کو روکنے کے انتظامات موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ معاملات کو سیاسی طور پر حل کیا جائے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس (جس میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر شریک تھے) کے دوران یہ پیشکش زیر بحث آئی۔ اجلاس میں لانگ مارچ کے لائحہ عمل کے ساتھ گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر بھی غور کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی، لیکن آواز نہیں سنی گئی۔
محمود خان اچکزئی نے اسپیکر ہاؤس یا وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات سے انکار کیا اور کہا کہ وہ کسی درخت کے نیچے یا کسی سیاسی رہنما کے گھر ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن حکومتی دفاتر میں نہیں جائیں گے۔ اس لیے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس ان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر، حلیم عادل شیخ اور معین قریشی وفد کا حصہ بن سکتے ہیں۔
حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنااللہ، امیر مقام کے ساتھ پیپلز پارٹی کے نمائندے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہونے کی توقع ہے۔ یہ مشترکہ وفد صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں لگے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے اور تحریک انصاف ہر ممکن آپشن استعمال کرے گی۔ تاہم فی الحال قومی اسمبلی سے استعفوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی خودمختاری مضبوط وفاق کے لیے ضروری ہے، اور لانگ مارچ کا جواب گورنر راج نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور عمران خان سے ملاقاتیں ہونی چاہئیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی ہی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا رہیں گے، اور اسمبلی تحلیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
مذاکرات کا نتیجہ لانگ مارچ کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔ اگر پیش رفت ہوئی تو احتجاج ملتوی یا نرم ہو سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دونوں طرف سے سیاسی حل پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن بنیادی اختلافات—خاص طور پر عمران خان کی رہائی اور صوبائی اختیارات—اب بھی موجود ہیں۔
یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب ملک دہشت گردی کے چیلنجز، اقتصادی مسائل اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کامیاب بات چیت نہ صرف فوری بحران کم کر سکتی ہے بلکہ طویل مدتی سیاسی استحکام کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔