دانش اسکول کی طالبہ کی موت، انتظامیہ کا گرنے سے زخمی ہونے کا مؤقف، تحقیقات شروع

ڈیرہ غازیخان (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مجاہد اقبال کھوسہ ) دانش سکول تونسہ میں چھٹی جماعت کی طالبہ پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئی، جس کے بعد بچی کی لاش تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ منتقل کر دی گئی۔ واقعے نے طالبہ کے اہل خانہ اور مقامی شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ پولیس اور متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والی طالبہ کی شناخت خنسہ، دختر محمد رمضان کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق شادن لنڈ سے بتایا جاتا ہے۔ طالبہ دانش اسکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ اسکول کے واک ٹریک پر پیش آیا، جہاں صبح کے وقت طالبات موجود تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ طالبہ اچانک گر گئی، جس کے بعد اس کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ سکول انتظامیہ کے مطابق واقعے کے فوری بعد اسکول کی نرس، ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف نے بچی کو طبی امداد فراہم کی اور اسے ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔

دوسری جانب ذرائع کی جانب سے بچی کے گلے پر زخم کے نشانات موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے باعث واقعے کی نوعیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم ان زخموں کی نوعیت، ان کے بننے کی وجہ اور موت سے ان کا تعلق فی الحال حتمی طور پر واضح نہیں ہے۔

اسکول انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ طالبہ واک کے دوران اچانک گر کر زخمی ہوئی، جس کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ جاں بحق ہوگئی۔ انتظامیہ کے مطابق بچی کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔

واقعے کے بعد طالبہ کی لاش تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ منتقل کی گئی، جہاں قانونی تقاضوں کے تحت طبی معائنہ اور پوسٹ مارٹم کا عمل کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم اور طبی معائنے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر ریتڑہ پولیس اور مقامی حکام، بشمول ڈی ایس پی تونسہ، موقع پر پہنچے اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طالبہ کے ساتھ اصل میں کیا پیش آیا اور اس کی موت کن حالات میں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آنے کے باعث تحقیقات کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ ایک جانب سکول انتظامیہ طالبہ کے گر کر زخمی ہونے کو موت کی وجہ قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب بچی کے گلے پر زخموں کے نشانات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مزید چھان بین ضروری قرار دی جا رہی ہے۔

تحقیقاتی عمل میں سکول میں موجود عملے اور طالبات سے معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ واقعے کے مقام اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر اسکول میں نگرانی کے کیمرے نصب ہیں تو واقعے کے وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تحقیقات میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

بچی کے اہل خانہ کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم واقعے کے بعد خاندان میں شدید غم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

پولیس اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں ہی سامنے آئے گی، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے سے قبل واقعے کی وجہ یا کسی فرد کے کردار کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ شہریوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بچی کی پراسرار موت کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ اصل صورتحال واضح ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے