عظیم سیال کی بازیابی کیلئے گدپور اور مٹھو پتن میں پولیس کا سرچ آپریشن جاری

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری): کچے کے علاقے سے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے کے ٹی این نیوز کے سینئر رپورٹر عظیم سیال کی بحفاظت بازیابی کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ اور ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کیتھران خود گدپور اور مٹھو پتن کے علاقوں میں پہنچ کر کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ کچے کے مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے مشتبہ ٹھکانوں اور ان علاقوں کی سرچنگ کی جا رہی ہے جہاں مغوی صحافی کی موجودگی کا شبہ ہے۔

ذرائع کے مطابق شکارپور، کشمور اور ملحقہ کچے کے علاقوں میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ڈرون کیمروں سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے ممکنہ ٹھکانوں کی نگرانی اور سرچنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ مختلف مقامات پر مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سکھر اور گھوٹکی پولیس کی ٹیکنیکل ٹیمیں مٹھو پتن کے مقام پر موجود ہیں، جہاں جدید آلات کے ذریعے مغوی صحافی اور مبینہ اغوا کاروں کی ممکنہ لوکیشن کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تکنیکی معلومات کی بنیاد پر مختلف مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ عظیم سیال تک رسائی حاصل کرکے انہیں بحفاظت بازیاب کرایا جاسکے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عظیم سیال کے مبینہ اغوا کے معاملے میں مشتبہ افراد اور مبینہ سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔ پولیس مختلف شواہد اور دستیاب معلومات کی روشنی میں کارروائی کو آگے بڑھا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق مغوی صحافی کی بحفاظت بازیابی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کیلئے کچے کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو ممکنہ راستوں اور مشتبہ مقامات پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ علاقے میں نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔

تاہم پولیس کی جانب سے جاری کارروائی، مشتبہ افراد کی گرفتاری یا مغوی صحافی کی لوکیشن سے متعلق حتمی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کی پیش رفت اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

دوسری جانب عظیم سیال کی بحفاظت بازیابی کیلئے صحافیوں کا احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے۔ صحافتی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عظیم سیال کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

عظیم سیال کی بازیابی کیلئے پولیس آپریشن جاری ہے جبکہ ان کی بحفاظت واپسی کے حوالے سے مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *