یہ کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ پاکستان میں برسوں سے چلی آ رہی ایک پرانی سرکاری روش ہے

نااہلی اور بدعنوانی
تحریر۔ سید نذیر شاہ
ہمارے ہاں جب بھی معیشت ڈانواں ڈول ہونے لگتی ہے اور حکمرانوں کو لگتا ہے کہ اب آئی ایم ایف سے مدد مانگنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تو فوراً قربانی کا نعرہ بلند ہو جاتا ہے۔ سرکاری بیانات میں اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے اب سب لوگ ایک ساتھ مل کر مشکل وقت کا مقابلہ کریں گے۔ مگر جب اس قربانی کا بوجھ بانٹنے کی باری آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سارا بوجھ صرف ایک کمزور کندھے پر ڈال دیا گیا ہے اور وہ کندھا اس ملک کے عام آدمی کا ہے۔ حکمران طبقہ نعروں کے شور میں خود کو چھپا لیتا ہے اور دور کھڑے ہو کر غریب کو صبر کرنے کی نصیحت کرنے لگتا ہے۔

یہ کہانی آج کی نہیں ہے۔ صدیوں پہلے ابن خلدون نے لکھا تھا کہ جب کسی ریاست کے حکمران عوام کے دکھ درد سے بالکل کٹ جائیں اور اپنی عیاشی کو ہی حکومت کا اصول بنا لیں تو وہ ریاست اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔ فرانس کے انقلاب سے پہلے پیرس کی سڑکوں پر بھی یہی منظر تھا۔ وہاں کا امیر طبقہ محلوں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہا تھا اور عام لوگ روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترس رہے تھے۔ انقلاب کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ اشرافیہ اور بیوروکریسی پر وہی سختی نافذ کی گئی جو برسوں سے عام شہری پر کی جاتی رہی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دنیا نے اس سے سبق سیکھ لیا اور ہم نے اسے اپنا مستقل معمول بنا لیا ہے۔

عام شہری نے اس ریاست کے ساتھ جو خاموش وعدہ کیا تھا وہ بہت سادہ تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ خاموشی سے ٹیکس دے گا اور بجلی اور گیس کے بھاری بل بھرے گا اور مہنگائی کی مار بھی سہے گا مگر اس امید پر کہ جب سچ میں کڑا وقت آئے گا تو حکمران بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن جب وہی طبقہ عوام کو کفایت شعاری کا درس دیتے ہوئے خود نئی مہنگی گاڑیاں اور مہنگے جہاز اور نجی مراعات حاصل کرتا ہے تو اعتماد کا یہ نازک رشتہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے ٹوٹتے ہی ریاست صرف طاقت کا نام بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ معاملہ محض معاشی بدحالی کا نہیں بلکہ سیدھا سیدھا انصاف کا ہے اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مشکل وقت میں بوجھ سب پر برابر تقسیم ہو نہ کہ غریب کا آخری نوالہ بھی ٹیکس کے نام پر چھین لیا جائے اور امیر طبقے کی شاہ خرچی میں ایک انچ کمی نہ آئے۔ اور جب کسی معاشرے سے یہ اصول رخصت ہو جائے تو انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ یعنی امید بھی دم توڑ دیتی ہے۔ انسان مالی نقصان تو برداشت کر لیتا ہے مگر بار بار کی ناانصافی آخرکار زخم بن جاتی ہے۔

اب اس پورے تماشے کی معاشی اور آئینی حقیقت بھی دیکھ لیجیے۔ ایک طرف وفاقی حکومت چند ارب ڈالر کے لیے دنیا بھر کے قرض دہندگان کے پاس جاتی رہی ہے اور دوسری طرف یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ہر سال پانچ سے چھ ٹریلین روپے صرف اس لیے ضائع ہو رہے ہیں کیونکہ وفاق نے وہ اختیارات صوبوں کو منتقل ہی نہیں کیے جو بہت پہلے طے پا چکے تھے۔ دو ہزار دس میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ سترہ وزارتیں ختم کر دی جائیں گی یا صوبوں کے حوالے کر دی جائیں گی تاکہ خرچہ کم ہو اور اختیار عوام کے قریب پہنچے۔ مگر ہمارے افسروں اور صاحبانِ اقتدار نے صرف نام بدلے اور نیا بورڈ لگا دیا اور صحت اور تعلیم اور خوراک جیسی وہی وزارتیں اور ان کے بھاری اخراجات جوں کے توں برقرار رکھے۔

اصل وجہ یہ ہے کہ وفاق میں بیٹھی بیوروکریسی اور بالادست طبقہ اپنے اختیارات اور فنڈز اور مراعات میں کوئی کمی نہیں چاہتا کیونکہ اگر یہ وزارتیں اور محکمے مکمل طور پر صوبوں کو منتقل ہو جائیں تو وفاق میں سیکرٹریز اور ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ عہدوں کی تعداد بھی کم کرنی پڑے گی اور یہی وہ قربانی ہے جس کے لیے وہ کبھی تیار نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی شعبے کے لیے وفاق میں بھی اربوں روپے کے بجٹ والی وزارت موجود رہتی ہے اور صوبوں میں بھی وہی محکمے چلتے رہتے ہیں اور عوام کو آخر میں کچھ نہیں ملتا۔ ایسے میں اسلام آباد صوبوں پر الزام دھر دیتا ہے اور صوبائی حکومتیں ساری ذمہ داری وفاق پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہیں۔ یہ نااہلی اور بدنیتی اور جواب دہی سے فرار سے جنم لینے والا ادارہ جاتی الجھن کا وہ چکر ہے جس نے ہمارے پورے طرزِ حکمرانی کو اندر سے برباد کر دیا ہے اور جس کا خمیازہ آج پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔

یہ کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ پاکستان میں برسوں سے چلی آ رہی ایک پرانی سرکاری روش ہے کہ کوئی بھی ادارہ یا وزارت خوشی سے اپنا اختیار اور بجٹ اور مراعات چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی کیونکہ ان بے فیض اداروں کے ساتھ شاہانہ سہولتیں اور مفت پٹرول اور مہنگی گاڑیاں اور اثر و رسوخ اور وسائل پر قابو جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ادارے کا اصل قانونی جواز ختم ہو جانے کے برسوں بعد بھی اسے نیا نام دے کر زندہ رکھا جاتا ہے اور یہیں انتظامی نااہلی بدعنوانی سے جا ملتی ہے جس نے اس ملک کو مفلوج کر رکھا ہے۔ جب تک ناکارہ اداروں کو ختم کر کے افسر شاہی کے حجم اور مراعات میں سخت کٹوتیاں نہیں کی جاتیں تب تک معاشی بحالی کا ہر دعویٰ محض کاغذی دھوکہ رہے گا اور صرف پٹواریوں اور چھوٹے اہلکاروں پر چھاپے مار کر نااہلی اور بدعنوانی کے خاتمے کا ڈھونگ رچایا جاتا رہے گا اور ہر نیا بحران پرانے زخموں کو تازہ کرتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے