ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیوروچیف احسان اللہ ایاز) متروکہ وقف املاک ننکانہ صاحب میں مبینہ کرپشن، غیر قانونی تعمیرات اور قیمتی اراضی پر قبضوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ارسال کردہ انٹیلی جنس رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ نے ادارے کے انتظام و نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ضلع ننکانہ صاحب میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس موجود تقریباً 18 ہزار 215 ایکڑ اراضی کے مختلف حصوں میں مبینہ قبضوں، غیر قانونی تعمیرات اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ایڈمنسٹریٹر، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹرز عمر جاوید اعوان اور فضل الرحمن بٹ، پٹواری، سیکیورٹی عملے اور ڈرائیور سمیت سات ملازمین کے مبینہ کردار کا ذکر شامل ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق بعض اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ مالی وصولیوں اور رشوت کے عوض قابضین کو سہولت فراہم کی۔ رپورٹ میں 25 مقامات پر قبضوں، 9 پراپرٹی ڈیلرز اور 50 مبینہ قابضین کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ پانچ لاکھ روپے تک مبینہ رشوت اور چند مرلہ سے لے کر پانچ کنال سے زائد رقبے پر قبضوں کی تفصیلات، تصاویر و دیگر شواہد درج ہیں۔
اس صورتحال پر عوامی و متعلقہ حلقوں کی جانب سے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان سے فوری نوٹس لینے، معاملے کی شفاف و غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے اور موجودہ انتظامی تعیناتیوں کا دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
