ضلع بہاولپور کے بعض تھانوں میں شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت ستانی، غیر متعلقہ افراد کی مداخلت

اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان / کیو این این ورلڈ) ضلع بہاولپور کے بعض تھانوں میں شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت ستانی، غیر متعلقہ افراد کی مداخلت اور مکمل ابتدائی جانچ کے بغیر مقدمات کے اندراج کی سنگین شکایات سامنے آنے لگی ہیں، جس کے باعث پولیس کے نظامِ نگرانی اور تفتیش پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں اوچ شریف کے محلہ جنگ پورہ میں 12 سالہ بچی سے مبینہ نازیبا حرکات کے الزام میں والد کے خلاف درج ایف آئی آر نمبر 1134/26 بھی زیرِ بحث ہے، جہاں مبینہ واقعے اور مقدمے کے اندراج کے درمیان تقریباً تین ماہ کا وقفہ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے اگلے ہی روز پولیس کی موجودگی میں والدہ اور بچی نے ایسے کسی بھی واقعے کی تردید کی تھی، جس کے بعد اب مقدمہ درج ہونے پر سابقہ بیانات کو تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنانے اور نئے مؤقف کی تصدیق کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

معاملے میں ایس ڈی پی او سرکل احمدپور شرقیہ چوہدری جاوید اختر کی نگرانی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حساس نوعیت کی درخواست پر ابتدائی کارروائی سے لے کر مقدمے کے اندراج تک تمام قانونی تقاضوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا گیا یا نہیں۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ تھانوں میں سائلین اور پولیس کے درمیان غیر متعلقہ افراد مبینہ طور پر رابطہ کار بن کر اثر انداز ہوتے ہیں اور رشوت کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔

شہری حلقوں نے ڈی پی او بہاولپور سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ متنازع ایف آئی آر نمبر 1134/26 سمیت ایسی دیگر درخواستوں کا ریکارڈ طلب کر کے پوری انکوائری کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ شہریوں کے مطابق تھانے انصاف کی پہلی دہلیز ہیں، جہاں سفارش اور دباؤ کے تاثر کو ختم کر کے شفافیت قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے