میہڑ: انڈس ہائی وے پر تیز رفتار کار کی ٹکر سے 12 سالہ بچی جاں بحق میہڑ سے کیو این این ورلڈ کے نامہ نگار منظور علی جوئیہ کی رپورٹ

گھوٹکی ( کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری ) سندھ کی زرعی معیشت کا پہیہ چلانے والا آبادگار اپنی ہی تیار فصل کی مناسب قیمت کے لیے دربدر ہونے لگا۔ ضلع گھوٹکی میں چاول کی خریداری کے دوران فی من (40 کلو) پر 1 کلو اور 100 کلو کی بوری پر 2.5 کلوگرام کی کھلی اور ناجائز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ناپ تول میں اس کھلے استحصال، کم نرخوں، وزن اور باردانے کے نام پر کسانوں کی لوٹ مار کے خلاف شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آبادگار رہنماؤں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت سے اس نا انصافی کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

کریم میں منعقدہ آبادگاروں کی اہم بیٹھک کے دوران رہنماؤں نے کہا کہ بیج، کھاد، ادویات، ڈیزل، بجلی اور مزدوری کی مد میں بھاری اخراجات اور تمام تر زرعی خطرات آبادگار اکیلا برداشت کرتا ہے۔ تاہم، جب مہینوں کی محنت کے بعد فصل مارکیٹ میں پہنچتی ہے تو نمی، وزن اور باردانے کے نام پر جبری کٹوتیاں کر کے کسان کی محنت پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تمام زرعی اجناس کی لاگت بڑھنے کے باوجود فصل کی قیمت طے کرتے وقت پیداواری لاگت کو کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے؟

آبادگار رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف کریم تک محدود نہیں بلکہ گھوٹکی، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی اور اوباوڑو کے تمام زرعی علاقے اس کی لپیٹ میں ہیں۔ کسانوں کو جائز معاوضہ نہ ملنے سے نہ صرف کسان بلکہ مزدور، ٹرانسپورٹر، آڑھتی اور مقامی معیشت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام خریداری مراکزی پر وزن، معیار اور نرخ کا واضح ریکارڈ رکھا جائے اور کسان کو کسی بھی قسم کی کٹوتی کی تحریری رسید فراہم کی جائے۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کاغذی کارروائی کے بجائے خریداری مراکزی کے اچانک معائنے کیے جائیں اور اس کھلی لوٹ مار کا خاتمہ کیا جائے۔ آبادگاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ناجائز کٹوتیاں بند نہ ہوئیں اور فصل کی مناسب قیمت نہ ملی تو وہ سڑکوں پر نکلنے، دھرنے دینے اور شدید احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے