علاقائی سیکیورٹی: پاکستان کا نیا کردار
تحریر: سید نذیر شاہ
پاکستان نے اپنی تاریخ کا بڑا حصہ ایک روایتی سیکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر گزارا ہے یعنی وہ ملک جو محض اپنے وجود اور دفاع کے تحفظ میں الجھا رہا۔ لیکن حالیہ عالمی اور علاقائی تزویراتی تبدیلیوں نے اس کی بین الاقوامی حیثیت کو یکسر بدل دیا ہے۔ آج پاکستان صرف اپنی سرحدوں کا روایتی محافظ نہیں رہا بلکہ پورے خطے میں ایک اہم ریجنل سیکیورٹی پرووائیڈر یعنی علاقائی سلامتی اور استحکام فراہم کرنے والی بااثر اور مرکزی ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ نیا اور طاقتور تشخص پاکستانی قیادت کی جدید اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر بھی ہے اور اس کی متحرک سفارت کاری اور سیاسی بصیرت کا روشن ثبوت بھی۔ عالمی برادری اب پاکستان کو صرف مسائل کا شکار ملک نہیں سمجھتی بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا تک امن اور توازن اور تجارتی و سیکیورٹی استحکام کا ناگزیر ستون تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا اسٹریٹجک اثر و رسوخ اسی بدلتے ہوئے کردار کی سب سے واضح دلیل بن کر سامنے آیا ہے۔ اگست 2026 میں پاکستان اور سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے دفاعی منظرنامے پر ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی معاشی طاقت اور ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور پاکستان کی تجربہ کار عسکری صلاحیتیں ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو گئیں۔ اسی تسلسل میں کویت کے ساتھ طے پانے والے دفاعی تعاون نے یہ ثابت کیا کہ مغربی ایشیا میں پاکستان پر دفاعی اعتماد تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صرف معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے پاکستان نے ایک مؤثر پیس میکر کے طور پر بھی خود کو منوایا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری تصادم اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران میں پاکستان نے ایک ذمہ دار سفارتی پل کا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک معتبر امن ساز کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔
علاقائی سطح پر پاکستان کا یہ مضبوط مقام اس کے ناقابلِ تسخیر دفاع اور حریفوں کو دیے گئے واضح پیغامات پر قائم ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی چار روزہ جنگی کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بروقت اور مؤثر عسکری جواب نے بھارت کے خود ساختہ وشوا گرو بننے کے دعووں اور رافیل طیاروں کے زعم کو ہوا میں اڑا دیا اور تزویراتی توازن کو مکمل طور پر بحال کر دیا۔ اس کامیابی کے بعد جے ایف 17 تھنڈر طیاروں اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی عالمی مقبولیت نے پاکستان کے لیے ایک بڑا دفاعی برآمد کنندہ بننے کا راستہ کھول دیا ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر بھی پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے کیونکہ ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال کر پاکستان نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی اور توانائی راہداریوں کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دہائیوں پر محیط نمایاں کردار نے اسے عالمی برادری کا ایک معتبر سیکیورٹی پارٹنر بنا دیا ہے۔
یہیں سے پاکستان کے لیے ایک نیا اور زیادہ ذمہ دارانہ کردار جنم لیتا ہے جہاں اسے محض سیکیورٹی اسٹیٹ کے دائرے سے نکل کر عملی طور پر ایک پائیدار ریجنل سیکیورٹی پرووائیڈر بننا ہوگا۔ دونوں تصورات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سیکیورٹی اسٹیٹ صرف اپنی سرحدوں اور اپنے وجود کی حفاظت پر مرکوز رہتی ہے جبکہ سیکیورٹی پرووائیڈر پورے خطے کی سلامتی اور توازن کا ضامن بنتا ہے۔ ایک خطرہ سامنے آنے پر ردعمل دیتا ہے جبکہ دوسرا خطرہ جنم لینے سے پہلے ہی اس کا راستہ روک دیتا ہے۔ تاہم اس بلند مقام کو برقرار رکھنے کی راہ میں پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج اس کا اندرونی معاشی مسئلہ ہے۔ پاکستان علاقائی اثر و رسوخ کو وسعت دینا چاہتا ہے لیکن معاشی عدم استحکام اور سیاسی کھینچ تان اس کے قدم روک دیتی ہے۔ عالمی سطح پر پائیدار مقام کے حصول کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی راہداریوں کی فعال دیکھ بھال اور پالیسیوں کا تسلسل درکار ہے اور اسی لیے معیشت کو مضبوط بنانا قومی ترجیحات میں سرِفہرست ہونا چاہیے۔
علاقائی سلامتی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کو خطے میں کسی قسم کا تسلط قائم کرنا یا تھانیدار بننا چاہیے۔ علاقائی سیاسی تجربات اور تاریخ اس بات کی گواہ ہیں کہ جب بھی بھارت نے خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں صرف عدم استحکام اور دائمی تنازعات اور شدید محاذ آرائی نے جنم لیا۔ اس کے برعکس ایک علاقائی سیکیورٹی پرووائیڈر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اپنی عسکری اور سفارتی صلاحیتوں کو کسی دوسرے پر مرضی مسلط کرنے یا جارحانہ عزائم رکھنے کے بجائے جنگیں روکنے اور بحرانوں میں مذاکرات کے راستے کھلے رکھنے اور بین الاقوامی تجارتی اور توانائی کی شاہراہوں کو تحفظ دینے کے لیے تعمیری انداز میں استعمال کیا جائے۔
اگرچہ پاکستان کے پاس اس کلیدی کردار کے لیے مضبوط دفاعی قوت اور تزویراتی جغرافیائی اہمیت اور طویل سفارتی تجربے اور پائیدار علاقائی روابط کی صورت میں ایک بہترین بنیاد موجود ہے مگر اس بنیاد پر پائیدار عمارت کھڑی کرنے کے لیے اندرونی استحکام سب سے بنیادی شرط ہے۔ لہٰذا اگر پاکستان سیاسی استحکام اور معاشی خودکفالت اور پالیسیوں کے تسلسل اور فعال سفارت کاری کو اپنی قومی حکمتِ عملی کا محور بنا لے تو آنے والے برسوں میں اس کی شناخت صرف دفاعی سانچے میں الجھی سیکیورٹی اسٹیٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ ایک بااثر اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرے گا جو اپنے پورے خطے کے امن اور تجارتی روانی اور پائیدار استحکام کا حقیقی ضامن ہو۔
اس تمام تزویراتی ارتقا کی حتمی منزل ایک حقیقی فلاحی ریاست Welfare state کا قیام ہونا چاہیے۔ علاقائی سیکیورٹی پرووائیڈر بننا خود میں کوئی حتمی مقصد نہیں بلکہ یہ ایک ایسا سازگار اور پرامن ماحول فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں معاشی نمو اور غیرملکی سرمایہ کاری اور تجارتی منافع کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ جب ریاست دفاعی دباؤ اور بقا کی مستقل جنگ کے خدشات سے نکل کر معاشی طور پر خودکفیل ہو جائے گی تو یہی قومی وسائل سرحدوں کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود اور معیارِ تعلیم اور جدید صحت کی سہولیات اور سوشل سیکیورٹی اور روزگار کی فراہمی کے لیے مؤثر طور پر استعمال ہو سکیں گے۔ یوں قیامِ پاکستان کا حقیقی مقصد اور دیرینہ خواب پورا ہوگا۔