اسلام کا معاشی نظام، خوشحالی کی ضمانت
از قلم: عصمت اسامہ
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن و سنت کے ذریعے سے جو ضابطہء حیات عطا کیا ہے، اس کا ایک اہم حصہ معیشت بھی ہے۔ دینِ اسلام کا معاشی نظام، دنیا میں رائج دیگر نظاموں مثلاً اشتراکیت، اشتمالیت اور سرمایہ دارانہ نظام سے مختلف ہے اور اپنی ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے کچھ اصول و ضوابط اور مقاصد ہیں جن میں انسانیت کی فلاحِ دنیوی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ ذیل میں ان مقاصد کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔
اولین مقصد یہ کہ ریاست اس قابل ہو کہ عوام کو "حق المعاش” فراہم کر سکے۔ قوم کے ہر فرد کو حلال ذرائع روزگار سے کمانے کے مواقع میسر ہوں اور ہر فرد اپنی صلاحیتوں و وسائل کے مطابق روزی کمانے میں آزاد ہو۔ اس پر صرف اتنی پابندی ہو کہ وہ دوسروں کی فلاح اور کمائی میں رکاوٹ نہ بنے، نیز ہر فرد کو روزگار اور تجارت کے لیے سفر کی اجازت اور سہولت میسر ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ (سورہ جمعہ)
ترجمہ: پس زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل یعنی رزق تلاش کرو۔
حدیث شریف میں ہے:
اجملوا فی طلب الدنیا فان کلا میسر کما خلق لہ (بخاری و مسلم)
ترجمہ: دنیا کی طلب اپنی صلاحیت کے مطابق کرو اس لیے کہ جس کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے، وہ اسے ضرور ملے گا۔
اسلامی معاشی نظام کے مقاصد میں معاشرے میں "معاشی عدل و مساوات” قائم کرنا بھی شامل ہے تاکہ تمام افراد کو روزگار کے یکساں مواقع ملیں۔ معاشرے میں طبقاتی تعصبات نہ ہوں بلکہ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی فضا ہو۔ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں اور محنت کے مطابق ترقی کرنے کا حق رکھتا ہو۔
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
لا یبیعن احدکم علی بیع اخیہ (بحوالہ بیہقی شریف)
ترجمہ: کوئی شخص، دوسرے بھائی کی بیع کو نہ خریدے۔
یعنی اگر دو مسلمان افراد آپس میں سودا طے کر چکے ہوں تو کوئی تیسرا فرد زیادہ بولی لگا کر ان کا سودا خراب نہ کرے کہ محض اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا نقصان کر دے۔ اس سے خود غرضی کا بھی سدباب ہو جاتا ہے۔
آج کل عموماً تجارت یا کاروبار کو دنیاوی کام گردانا جاتا ہے اور دین کو صرف چند رسومات تک محدود کر کے دین اور دنیا کو الگ سمجھا جاتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے معیشت کے مقاصد واضح کر کے اسے بھی عبادت کا درجہ دے دیا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی مثالیں موجود ہیں کہ وہ کسی کی ملازمت کو بھی عار نہیں سمجھتے تھے، جیسے حضرت شعیب علیہ السلام نے کی، اور تجارت و کاروبار بھی کیا کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
کفار کو اس پر بہت اعتراض ہوتا تھا جیسا کہ قرآن پاک میں آیا ہے:
ترجمہ: اور انہوں نے کہا، بھلا یہ کیسا رسول ہے، یہ تو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی آتا جاتا ہے۔ (سورہ الفرقان 25:7)
پھر رب العالمین نے اس کا جواب بھی خود ہی دیا:
ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو نہیں بھیجا مگر وہ بھی کھانا کھاتے تھے اور تجارتی مراکز میں بھی چلا پھرا کرتے تھے۔
حج کے ایام میں، جو ایک روحانی سفر ہے، اس کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی گئی۔ ارشاد ہوا:
ترجمہ: تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم (دورانِ حج) اپنے پروردگار کا فضل بذریعہ تجارت حاصل کرو۔ (البقرہ 2:198)
اسلام کے معاشی نظام میں ایک اہم مقصد "فرد کو شخصی ملکیت کی اجازت دینا” ہے۔ اسلام کا منشاء ہے کہ ہر فرد اپنی محنت کی کمائی کا پھل کھا سکے اور حلال ذرائع روزگار سے جائیداد بھی بنا سکے۔ اسلام ایسے نظام کے خلاف ہے جس میں کسی شخص سے اس کا حقِ ملکیت چھین لیا جائے اور اس کے وسائل اجتماعی ملکیت میں یا ریاست کے قبضے میں ہوں، جیسا کہ دنیا کے بعض ممالک میں رائج ہے حالانکہ یہ بھی ظلم کا نظام ہے۔
اسلام کے معاشی نظام کے مقاصد میں ملک میں عدل و انصاف، سچائی، وعدہ وفا کرنا اور دیانت داری کا نظام قائم کرنا بھی شامل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور کہہ دو کہ میں ہر اس کتاب کو مانتا ہوں جو اللہ نے نازل کی اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔ (سورہ شوریٰ: 15)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:
ترجمہ: تباہی ہے کمی کرنے والوں کے لیے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا ماپ کر لیتے ہیں اور جب انہیں ماپ یا تول کر دیتے ہیں تو کم کر کے دیتے ہیں۔ (سورہ المطففین 83:11)
دنیا میں اس وقت جو آجر اور مزدور، امیر اور غریب کے مابین کشمکش چل رہی ہے، اگر اسلامی نظامِ معیشت رائج ہو تو یہ کشمکش پیدا ہی نہ ہو۔ صاف ستھرے اور دیانت دارانہ طریقے سے معیشت کو چلانا آخرت کے اجر و ثواب اور درجات کی بلندی کا بھی ذریعہ ہے، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
سچا اور امانت دار تاجر (آخرت میں) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی شریف)
اسلام کے معاشی نظام کے مقاصد میں دنیا کی کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی اور سرخروئی بھی پیشِ نظر ہے، اس لیے حلال ذرائع آمدن کے ساتھ ساتھ حرام اور ناجائز ذرائع مثلاً دھوکہ دہی، رشوت، جوا، اجارہ داری اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ کو حرام قرار دیا گیا۔ سود کی ممانعت قرآن پاک میں بیان کی گئی۔ ارشاد ہوا:
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے اصل مال تمہارا حق ہیں، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخ دستی تک مہلت دو، اور تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ (البقرہ: 278-280)
جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں سود کو ختم کر دیا گیا ہے تو ہمارے ملک میں بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
اسلامی نظامِ معیشت میں چونکہ ساری انسانیت کی فلاح درپیش ہوتی ہے، اس لیے صلہ رحمی کی تاکید کی گئی کہ اموالِ وراثت میں رشتہ داروں کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ اس کے علاوہ زکوٰۃ، عشر، خراج، جزیہ، صدقات اور وقف کا نظام بھی قائم کیا گیا تاکہ امراء و رؤساء کے اموال میں معاشرے کے نادار اور محتاج طبقات کا بھی حق ہو اور کوئی فرد بھوکا نہ سوئے۔
جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریا کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر گیا تو روزِ آخرت عمر جواب دہ ہوگا۔ اسی فکر کی وجہ سے وہ راتوں کو سونے کے بجائے عوام کی حالت جاننے کے لیے گشت کیا کرتے تھے اور اشیائے خوردونوش کے تھیلے اپنی کمر پر لاد کر لے جایا کرتے تھے۔
اسلامی معاشی نظام کے مقاصد میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کرنا لازم ہے جس کی ذمہ داری ریاست پر ہے، کیونکہ اس کے پاس بیت المال کی صورت میں تمام ذرائع آمدن موجود ہوتے ہیں اور کفالتِ عامہ کے نظام کو جاری کرنا ریاست کا فریضہ ہوتا ہے۔
خوشحال عوام ہی خوشحال ریاست کا سبب بنتے ہیں۔ قوموں کا وجود مضبوط معیشت کا مرہونِ منت ہوتا ہے، اس لیے معاشی مسائل کا حل "اسلامی نظامِ معیشت” میں ہی موجود ہے۔ اس نظام کی خاطر جدوجہد کرنا ہر ذی شعور مسلمان پر لازم ہے۔
بقول اقبال:
یہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہوتی
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خرد نے کہہ بھی دیا "لا الہ” تو کیا حاصل
دل و نگاہ جو مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں!