خیبر: 28 سالہ تدریسی سفر اختتام پذیر، طلبہ نے ہیڈ ماسٹر محمد فاروق آفریدی کو آبدیدہ ہوکر رخصت کیا

خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار نورحلیم آفریدی) گورنمنٹ مڈل سکول عظیم کلے کے پرائمری سیکشن کے ہیڈ ماسٹر محمد فاروق آفریدی اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوگئے۔ ان کے اعزاز میں سکول میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں طلبہ، سکول کے اساتذہ اور علاقہ کے معززین نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ رخصتی کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور متعدد طلبہ اپنے استاد کو آبدیدہ ہوکر رخصت کرتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق محمد فاروق آفریدی نے 1998 میں اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی تقرری ضلع خیبر کے علاقے ناویہ کمر کے پرائمری سکول کگہ غاڑہ میں ہوئی، جس کے بعد انہوں نے سپین قبر غاڑیزہ سکول میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں ان کا تبادلہ گورنمنٹ مڈل سکول عظیم کلے میں ہوا، جہاں انہیں ہیڈ ٹیچر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

محمد فاروق آفریدی نے ایسے وقت میں گورنمنٹ مڈل سکول عظیم کلے میں فرائض انجام دیے جب علاقے میں دہشت گردی کے باعث حالات انتہائی مشکل تھے۔ ان نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور علاقے کے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ سکول کے انتظامی امور بھی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

الوداعی تقریب میں گورنمنٹ مڈل سکول کے ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محمد جمال آفریدی، موجودہ ہیڈ ماسٹر سید افضل، ریٹائرڈ استاد واجد علی، تھیالوجی ٹیچر عالم زیب، عابد علی، مولانا سردار، عزیز الرحمن، سکول کے دیگر اساتذہ و عملے اور علاقے کے معززین نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمان خصوصی سابق ہیڈ ماسٹر محمد جمال آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، کیونکہ ساری زندگی بچوں کو سکھاتے سکھاتے تعلیم و اصلاح اس کی عادت بن جاتی ہے۔ وہ معاشرے میں جہاں کوئی غلطی دیکھتا ہے، اس کی نشاندہی اور اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے محمد فاروق آفریدی کی تدریسی اور انتظامی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنے تجربات بھی موجودہ سکول سٹاف کے ساتھ شیئر کیے۔

اس موقع پر ریٹائر ہونے والے ہیڈ ماسٹر محمد فاروق آفریدی نے کہا کہ انہوں نے دوران ملازمت اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے کی کوشش کی۔ اگر دوران ڈیوٹی ان کے کسی عمل سے کوئی طالب علم یا استاد ناراض ہوا ہو تو وہ اپنے تمام طلبہ اور سکول سٹاف سے معذرت خواہ ہیں۔

تقریب کے اختتام پر رخصتی کا وقت انتہائی جذباتی ہوگیا۔ محمد فاروق آفریدی جب اپنے طلبہ سے آخری بار رخصت ہونے لگے تو کئی طلبہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آنکھوں میں آنسو لیے اپنے استاد کو الوداع کہا۔

طلبہ اور سکول کے جملہ سٹاف نے محمد فاروق آفریدی کے آخری دن کو ان کے لیے یادگار بنا دیا اور ان کی طویل تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے