وہمی بیماریوں کی شفا بخش تجویز!
ظفر اقبال ظفر
میں دوسرے زندہ، مردہ، اور نیم مردہ لوگوں کی نسبت مختلف بیماریوں سے بار بار مرا ہوں۔ میرا ایک قریبی میڈیکل سٹور والا دوست، جہاں چائے پہ ہم روزانہ اکٹھے ہوتے، اس کے پاس ڈاکٹرز اپنے کلینک کے لیے دوائیاں لیتے اور کچھ وقت ہمارے ساتھ گپ شپ لگاتے، جس کی وجہ سے مجھے اکثر بدترین بیماریوں کے ناموں اور علامات کے متعلق معلومات حاصل ہوتی۔ جیسے آج کے دور میں موبائل فون پر ہر بیماری کا تعارف، علامات، اور علاج پر مبنی دوا کے نسخے بتائے جاتے ہیں۔ ان کے لائیک، کمنٹس دیکھ کر مجھے بیمار لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ کر دکھ ہوتا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو بیماری نہیں، فقط بیماری کا وہم تکلیف زدہ احساس میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
میں موسمی و مزاجی تبدیلی کے اوقاتِ کار میں کسی بیماری کے متعلق گھنٹہ گھنٹہ سوچتا اور پریشان رہتا، اس سے میرے جسم کے اندر وہ ساری علاماتیں پیدا ہو جاتیں جو اس بیماری کی خصوصیات ہوتیں۔ جب کئی بار میں علامتوں کے راستوں پہ چلتے چلتے بیماری تک پہنچا تو مجھے کچھ ہی ایام بعد میں اس عمل پر سخت ندامت و شرمندگی ہوئی کہ میں اُس بیماری تک خود پہنچا تھا جو میری طرف آ ہی نہیں رہی تھی۔ میں بستر پر لیٹا اس کی مخصوص معیاری علامتوں کے متعلق سوچنے لگا۔ میں بہت پریشان ہو گیا اور ایک ڈاکٹر کے پاس جا کر معائنہ کروایا تو اس نے میری دماغ کے ذریعے جسم میں پھیلنے والی بیماری کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔ اب میری سوچ ’’بیماری ہو جائے گی‘‘ کی بجائے ’’بیماری ہے‘‘ کی منزل پر جا کر رک گئی تو میرے ذہن کو کچھ سکون ہو گیا، کیونکہ بیماری کو لے کر اب مجھے کسی قسم کا اندیشہ نہ رہا، چنانچہ میں نے بستر پر لیٹے ہوئے کروٹ بدلی اور سو گیا۔ اندیشہ ختم کر لینا بھی دوا کا کام کرتا ہے۔ اگلی صبح تک میں بالکل صحت یاب ہو چکا تھا۔
سوشل میڈیا پر موجود بیماریوں کی لاکھوں ویڈیوز سے معلومات لینے کے چکر میں کئی سال تک عجیب و غریب اور غیر معمولی بیماریوں میں مبتلا رہنے کا اعزاز حاصل کرتا رہا، اس بنا پر لوگوں کی بے پناہ توجہ و ہمدردی بھی میرے شاملِ حال رہی۔ اس غیر ضروری تجربے کی تکلیفوں سے گزرنے کے بعد میں اب اُس بارے سوچتا ہوں تو قہقہے لگاتا ہوں۔ یقین مانیں، اُس وقت واقعی میری حالت قابلِ رحم تھی۔ میں ایک عرصہ تک دیانتداری اور منفی اعتبار سے ڈرتا رہا کہ میں موت کے سرہانے بیٹھا ہوں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے جوتے، کپڑے خریدنے کے وقت اپنے آپ سے پوچھتا کہ مجھے ان چیزوں پر پیسے ضائع کرنے چاہئیں؟ جب کہ مجھے معلوم ہے کہ حتی الامکان ان چیزوں کے استعمال کے لیے میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔ تاہم آج میں نہایت خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ میری حالت بہت بہتر ہو گئی ہے۔ میں پچھلے کئی برسوں میں ایک دفعہ بھی نہیں مرا۔
اب اپنے آپ پر گزرے اُن حالات میں آج کے پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے اس کی دوا کو اس تحریر کے کیپسول میں پیش کرتے ہوئے یہ بتانے جا رہا ہوں کہ میں نے بار بار کا مرنا کیسے ختم کیا۔ اپنے آپ کو مضحکہ خیز خیالات کی دنیا سے نکالنے کے بعد جب کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھ میں خوفناک علامتیں پیدا ہو رہی ہیں تو میں قہقہہ لگا کر اپنے آپ سے کہتا ہوں، ’’ظفر، ادھر دیکھو۔ تم عرصہ دراز تک ایک کے بعد ایک دماغی بیماریوں سے مر رہے ہو، پھر بھی تمہاری صحت اطمینان بخش ہے۔ تمہیں بیماریوں کی بجائے اپنی غذا کے تناظر میں مفید خوراک پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔‘‘ بیماریوں کو سوچ سوچ کر بیمار ہونے کی حماقت کرنے والے بیوقوف کے روپ میں خود کو محسوس کرکے جو قہقہہ لگایا جائے، وہ بھی فائدہ دیتا ہے۔
وہم کے سانپ کو دوبارہ ڈسنے کا موقع نہ دینے کی عقل سیکھنے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے متعلق غیر ضروری طور پر پریشان نہیں ہونا، اسی خیال میں قہقہ بلند کر دینا خوشگوار احساس میں مبتلا کرتا ہے۔ پھر متواتر اپنے اوپر قہقہے لگانے کا مزہ لیتے ہوئے پریشان کرنے والے وہم کو اپنی موت آپ مرنے پر مجبور کرتا ہوں۔ اس ساری صورتحال سے آپ کو آگاہ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اپنے متعلق بہت زیادہ سنجیدگی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
اپنی احمقانہ پریشانیوں پر، صرف ہنسیں، آپ کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ پریشان اور بیمار کرنے والے خیالات پر مبنی حالات کا وجود غائب ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کمزوریوں، بیماریوں کی اُن ویڈیوز کو نظر انداز کریں جو آپ کے لیے ہیں ہی نہیں۔ بیماریوں کی معلومات بھی آپ کو بیمار کرتی ہے۔ بعض دفعہ لوگ ایسے نسخے جمع کر لیتے ہیں جن کی ان کو ضرورت نہیں ہوتی، مگر وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور انتظار کرتے ہیں کہ کب یہ معاملہ رونما ہو اور ہم معلوم کردہ نسخہ استعمال کریں۔ یہ ارادہ ایک دن اُن کو اس تکلیف دہ عمل میں لے ہی جاتا ہے۔
ہمارے جسم کے تمام اعضاء کو ہمارا دماغ کنٹرول کرتا ہے۔ جب ہم اپنے ہی دماغ کو اپنے کسی عضو کے بارے میں غلط ہدایات دیتے ہیں تو اس کے نتائج تکلیف و پریشانی کے ساتھ مالی اور صحت کے نقصان میں نکلتے ہیں۔ یہ کوئی اپنے آپ کے ساتھ خیر خواہی تو نہ ہوئی۔ خیال رکھنے کا پہلا حقدار آپ کا اپنا وجود ہے، اس سے محبت کا لطف بھی نرالا ہے۔
