خوشحال خان خٹک .فکر و فن کا آفتاب
تحریر: منور شاہ منور
پشتو ادب کی تاریخ میں اگر کسی ایسی شخصیت کی تلاش کی جائے جس کی ذات میں شاعری، سیاست، سپہ سالاری، علم، تاریخ نویسی، قبائلی قیادت اور فطرت و شکار کی دل دادگی ایک ساتھ جمع ہوں تو خوشحال خان خٹک کا نام سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کے ایک جامع الحیثیات انسان تھے۔ ان کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی تو دوسرے میں قلم؛ میدانِ جنگ میں سپہ سالار تھے تو میدانِ فکر و ادب میں حکیم و شاعر۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بجا طور پر "صاحبِ سیف و قلم” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
خوشحال خان خٹک 1613ء میں اکوڑہ خٹک کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق خٹک قبیلے کے ایک معزز اور بااثر خاندان سے تھا۔ قدرت نے انہیں بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت، طباعی، حاضر جوابی اور شجاعت عطا کی تھی۔ لڑکپن ہی سے ان کے مزاج میں خودداری اور جرأت نمایاں تھی۔ وہ کتاب اور قلم سے بھی شغف رکھتے تھے اور گھوڑے، تلوار اور شکار بھی ان کے محبوب مشاغل میں شامل تھے۔
ان کے والد شہباز خان خٹک اپنے علاقے میں بااثر شخصیت تھے۔ 1641ء میں ایک قبائلی لڑائی کے دوران ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت خوشحال خان کی عمر تقریباً اٹھائیس برس تھی۔ والد کی وفات کے بعد وہ اپنے باپ کی جاگیر اور خاندانی ذمہ داریوں کے وارث قرار پائے۔ یوں زندگی نے انہیں کم عمری ہی میں قیادت اور عملی سیاست کے میدان میں لا کھڑا کیا۔
خوشحال خان خٹک کی زندگی کا ایک اہم دور مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد سے وابستہ ہے۔ شاہ جہاں خوشحال خان کی شجاعت، ذہانت، معاملہ فہمی اور جنگی صلاحیتوں سے بہت متاثر تھا۔ خوشحال خان نے متعدد مواقع پر مغل حکومت کا ساتھ دیا اور مختلف فوجی مہمات میں مغلوں کے حلیف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بڑی جاگیر اور خطیر نقد انعامات عطا کیے گئے۔ مغل دربار میں ان کا مرتبہ بلند تھا اور انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن اقتدار کی دنیا میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ بادشاہ بدلتے ہیں تو دربار کے رنگ بھی بدل جاتے ہیں، اور خوشحال خان کی زندگی میں بھی جلد ایسا ہی ایک موڑ آنے والا تھا۔
شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر تخت نشین ہوا تو خوشحال خان کے حالات میں تبدیلی آنے لگی۔ محلاتی سازشوں اور سیاسی اختلافات کے باعث وہ وہی عزت و وقار برقرار نہ رکھ سکے جو انہیں شاہ جہاں کے دور میں حاصل تھا۔
پشاور کے گورنر مہابت خان کے زمانے میں خوشحال خان اور مغل حکومت کے درمیان تعلقات نسبتاً خوش گوار رہے۔ دونوں کے درمیان صلح و صفائی کی فضا قائم رہی، لیکن جب مہابت خان کی جگہ سید امیر خان نے لی تو حالات کشیدہ ہوگئے۔ خوشحال خان اور نئی انتظامیہ کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے اور بالآخر انہیں گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا گیا۔
قید اور جلاوطنی نے خوشحال خان کی خودداری کو توڑنے کے بجائے ان کے اندر ایک نئی آگ روشن کردی۔ وہ اقتدار کی قربت سے دور ہوئے تو انہیں اپنے لوگوں، اپنی مٹی اور اپنی آزادی کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوئی۔
1668ء میں خوشحال خان کی جلاوطنی ختم ہوئی اور وہ اپنے وطن واپس آئے۔ وطن کی مٹی نے انہیں خوش آمدید کہا، لیکن واپسی کے ساتھ مشکلات کا خاتمہ نہ ہوا۔ حکومت کے ساتھ ان کی محاذ آرائی کا سلسلہ ایک عرصے تک جاری رہا۔
اب خوشحال خان کی شخصیت صرف ایک قبائلی سردار یا مغل حکومت کے سابق حلیف کی نہ رہی تھی۔ وہ اپنے لوگوں کے درمیان آزادی، خودداری اور اتحاد کی ایک توانا آواز بن چکے تھے۔ ان کی شاعری میں بھی یہی جذبہ شدت سے ابھرنے لگا۔ وہ اپنی قوم کو بیداری، اتحاد، بہادری اور عزتِ نفس کا درس دیتے رہے۔
ان کے ہاں آزادی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی قدر تھی۔ وہ غلامی کو انسان کے وقار کے منافی سمجھتے تھے اور اپنی قوم کو کمزوری، باہمی انتشار اور بے عملی سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔
خوشحال خان خٹک ایک غیر معمولی سپہ سالار بھی تھے۔ انہوں نے جنگ کے میدان میں اپنی بہادری اور قیادت کا ثبوت دیا۔ گھوڑے کی پشت، تلوار کی جھنکار اور میدانِ کارزار کا شور ان کی شخصیت کے لیے اجنبی نہ تھا۔
لیکن ان کی شجاعت محض جسمانی قوت کا نام نہیں تھی۔ ان میں جنگی حکمتِ عملی، سیاسی بصیرت اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی موجود تھی۔ وہ جانتے تھے کہ صرف تلوار سے جنگ نہیں جیتی جاتی؛ اس کے لیے حوصلہ، تدبر، اتحاد اور قیادت بھی ضروری ہے۔
اسی جنگجو مزاج نے ان کی شاعری کو بھی ایک خاص توانائی عطا کی۔ ان کے اشعار میں بہادری، غیرت، خودداری اور مردانگی کے جذبات پوری قوت سے جلوہ گر ہیں۔
خوشحال خان خٹک کی شخصیت کا سب سے روشن اور تابندہ پہلو ان کی شاعری ہے۔ وہ پشتو کے عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے پشتو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہا اور تقریباً ہر اہم صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔
ان کے کلام کی وسعت حیرت انگیز ہے۔ ان کے اشعار کی تعداد پینتالیس ہزار سے بھی زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ یہ محض تعداد نہیں بلکہ ایک ایسے ذہن کی وسعت کا ثبوت ہے جس نے زندگی کے بے شمار رنگوں کو دیکھا، پرکھا اور پھر انہیں شعر کا لباس پہنایا۔
ان کی شاعری میں عشق بھی ہے، اخلاق بھی، تصوف بھی، حکمت بھی، سیاست بھی، معاشرت بھی، جنگ بھی اور فطرت بھی۔ گویا ان کا شعری دیوان ایک ایسی کھڑکی ہے جس سے ان کے عہد کی پوری زندگی دکھائی دیتی ہے۔
خوشحال خان کی شاعری میں عشق ایک خوب صورت اور جاندار جذبے کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ حسن اور محبت کے جذبات کو بڑی بے ساختگی سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عشق صرف محبوب کی تعریف تک محدود نہیں بلکہ انسانی دل کی پیچیدگیوں، آرزوؤں، محرومیوں اور جذباتی کیفیتوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ایک طرف ان کے اشعار میں تلوار کی سختی محسوس ہوتی ہے تو دوسری طرف محبت کی نزاکت۔ یہی تضاد ان کی شاعری کو دل کش بناتا ہے۔
خوشحال خان محض جذباتی شاعر نہیں بلکہ حکمت و دانائی کے شاعر بھی ہیں۔ ان کے کلام میں انسانی کردار، عزتِ نفس، دوستی، وفاداری، دشمنی، صبر، شجاعت اور زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں گہری بصیرت ملتی ہے۔
وہ انسان کو اپنی شخصیت سنوارنے، کردار بلند کرنے اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل دولت انسان کا کردار اور اس کی عزت ہے۔ دنیاوی مال و دولت آتے جاتے رہتے ہیں، مگر اچھا نام اور بلند کردار انسان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔
خوشحال خان کی شاعری میں تصوف کا رنگ بھی نمایاں ہے۔ وہ دنیا کی بے ثباتی، انسانی نفس، روحانی پاکیزگی اور خدا سے تعلق جیسے موضوعات پر غور کرتے ہیں۔
ان کا تصوف محض دنیا سے کنارہ کشی کا پیغام نہیں بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح کا درس دیتا ہے۔ وہ انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے، اخلاقی بلندی اختیار کرنے اور زندگی کے اصل مقصد کو سمجھنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
خوشحال خان اپنے معاشرے کے دکھ درد سے بے خبر شاعر نہیں تھے۔ انہوں نے قبائلی زندگی کی پیچیدگیوں، باہمی اختلافات، کمزوریوں اور سیاسی انتشار کو قریب سے دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں اجتماعی اور معاشرتی مسائل کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔
وہ قوم کے اتحاد کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک باہمی اختلاف اور انتشار کسی بھی قوم کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو اتحاد، غیرت، خودداری اور اجتماعی شعور کا درس دیتے رہے۔
اس اعتبار سے خوشحال خان صرف اپنے زمانے کے شاعر نہیں بلکہ قومی شعور کے شاعر بھی ہیں۔
خوشحال خان کی شخصیت میں ایک طرف سپہ سالار کی سختی تھی تو دوسری طرف فطرت کے عاشق کا نرم دل بھی۔ انہیں شکار، گھڑسواری اور قدرتی مناظر سے خاص لگاؤ تھا۔ پہاڑ، میدان، گھوڑے، شکار اور کھلی فضا ان کے پسندیدہ مشاغل تھے۔
ان کی شاعری میں بھی فطرت کے یہ رنگ جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ زندگی کو صرف محلوں اور درباروں کی کھڑکی سے نہیں دیکھتے بلکہ میدانوں، پہاڑوں اور عام انسانی زندگی میں بھی اس کی دھڑکن محسوس کرتے ہیں۔
یہی براہِ راست مشاہدہ ان کے کلام کو مصنوعی ہونے سے بچاتا ہے اور اس میں زندگی کی حقیقی خوشبو پیدا کرتا ہے۔
خوشحال خان ایک صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ قلم شخصیت تھے۔ انہیں اپنے عہد کے سیاسی، سماجی اور قبائلی حالات کا گہرا شعور تھا۔ ان کے کلام میں ان کے زمانے کی سیاسی کشمکش، قبائلی روایات، انسانی رویوں اور معاشرتی زندگی کے بے شمار پہلو محفوظ ہوگئے ہیں۔
یوں ان کی شاعری صرف ادبی خزانہ نہیں بلکہ اپنے عہد کی ایک اہم فکری اور تہذیبی دستاویز بھی بن گئی ہے۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے قاری کو صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک ایسے صاحبِ نظر انسان کی آواز سنائی دیتی ہے جس نے اپنے زمانے کو قریب سے دیکھا اور پوری شدت سے محسوس کیا تھا۔
خوشحال خان خٹک کی پوری شخصیت کو اگر دو لفظوں میں سمیٹا جائے تو وہ ہیں: سیف اور قلم۔
سیف ان کی شجاعت کی علامت تھا اور قلم ان کی دانش کا۔ تلوار سے انہوں نے میدانِ عمل میں اپنی موجودگی ثابت کی اور قلم سے آنے والی نسلوں کے لیے اپنے خیالات، تجربات اور جذبات محفوظ کر دیے۔
یہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں بھی کامیاب ہوں اور میدانِ ادب میں بھی۔ خوشحال خان نے دونوں میدانوں میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ یہی ان کی عظمت کا سب سے بڑا راز ہے۔
زندگی بھر جدوجہد، مزاحمت، شاعری اور فکر کی شمع روشن رکھنے والے خوشحال خان خٹک کا انتقال 20 فروری 1689ء کو ہوا۔ ان کی عمر تقریباً پچھتر برس تھی۔ انہوں نے دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے پیچھے ایک ایسا ادبی اور فکری سرمایہ چھوڑا جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑنے کے بجائے مزید روشن ہوتا گیا۔
ان کی وفات ایک فرد کی موت تھی، مگر ان کا فکر و فن ایک ایسی روایت بن گیا جو آج بھی زندہ ہے۔ ان کا نام پشتو زبان، پشتو ادب اور پشتون تہذیبی شعور کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہے گا۔
خوشحال خان خٹک کی زندگی دراصل ایک ایسے مردِ درویش و میدان کی داستان ہے جس نے زندگی کے تقریباً ہر رنگ کو پوری شدت سے جیا۔ وہ شاعر تھے تو ایسا شاعر جس نے زندگی کے دکھ سکھ کو لفظوں میں ڈھالا؛ سپہ سالار تھے تو ایسا بہادر جس نے میدانِ جنگ میں اپنی جرأت دکھائی؛ سیاسی رہنما تھے تو ایسا رہنما جس نے خودداری اور آزادی کو عزیز رکھا؛ اور مفکر تھے تو ایسا صاحبِ بصیرت جس نے اپنے معاشرے کی کمزوریوں اور خوبیوں دونوں کو بے باکی سے بیان کیا۔
ان کی شاعری میں عشق کی خوشبو، اخلاق کی روشنی، تصوف کی گہرائی، شجاعت کی للکار اور اجتماعی شعور کی حرارت ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا قلم صرف اشعار نہیں لکھتا بلکہ ایک پورے عہد کی تصویر بناتا ہے۔
خوشحال خان خٹک کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ انہوں نے تلوار کو کردار اور قلم کو شعور بنا دیا۔ وہ گزر گئے، مگر ان کی فکر، ان کی شاعری اور ان کی خودداری آج بھی زندہ ہے۔ پشتو ادب کے افق پر ان کا نام ایک ایسے روشن آفتاب کی مانند ہے جس کی کرنیں صدیوں کا سفر طے کرکے آج بھی دل و دماغ کو منور کر رہی ہیں۔
واقعی، خوشحال خان خٹک صرف ایک شخص نہیں تھے؛ وہ ایک عہد، ایک فکر، ایک مزاحمت اور ایک زندہ ادبی روایت کا نام ہیں۔