تیراہ متاثرین کی واپسی کا مطالبہ، مشران کا حکومت سے واضح شیڈول مانگنے کا اعلان

خیبر (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار نورحلیم آفریدی) وادی تیراہ کی مجموعی صورتحال، متاثرین کی ممکنہ واپسی اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے تحریک متاثرین تیراہ، باڑہ سیاسی اتحاد اور تیراہ کے مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے نو منتخب 36 رکنی مشران نے تیراہ کا دورہ کیا۔ وفد نے مختلف علاقوں میں گھروں، بازاروں، سڑکوں، اسکولوں، صحت مراکز، ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور دیگر بنیادی سہولیات کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

تحریک متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت آفریدی کے مطابق تیراہ متاثرین کے مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے نو منتخب 36 رکنی مشران، باڑہ سیاسی اتحاد اور تحریک متاثرین تیراہ کے قائدین پر مشتمل وفد نے تیراہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ وفد نے متاثرہ علاقوں میں عوامی اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

دورے کے دوران مشران نے لوگوں کے گھروں، حجروں، چاردیواریوں، دروازوں، دکانوں، بازاروں اور دیگر نجی و سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی تنصیبات کی موجودہ صورتحال کا بھی معائنہ کیا گیا۔

وفد کے ارکان نے تیراہ کے متعلقہ سکیورٹی حکام سے بھی ملاقات کی اور علاقے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق تیراہ کے نقل مکانی والے تمام علاقے سکیورٹی اور آپریشنل کلیئرنس کے بعد لوگوں کی واپسی کے لیے تیار ہیں، جبکہ علاقے کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق معلومات اعلیٰ سکیورٹی اور حکومتی حکام کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہیں۔

تیراہ کے مشران نے کہا کہ اگر سکیورٹی اداروں کے مطابق نقل مکانی والے علاقے کلیئر ہیں اور عوام کی واپسی کے لیے موزوں قرار دیے جا چکے ہیں تو اب خیبر پختونخوا حکومت اور سول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی واپسی کے حوالے سے واضح اور عملی فیصلہ کیا جائے۔

مشران نے زور دیا کہ تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی اور واپسی کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں اور وعدوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ متاثرین کو واپسی کا واضح شیڈول، باضابطہ نوٹیفکیشن اور عملی منصوبہ دیا جائے تاکہ عوام مزید غیر یقینی اور انتظار کی کیفیت میں نہ رہیں۔

تیراہ کے مشران اور تحریک متاثرین تیراہ نے مشترکہ طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر خیبر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تیراہ کی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں عوام کے سامنے واضح مؤقف پیش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی اداروں کی جانب سے تیراہ کو کلیئر قرار دیا گیا ہے تو متاثرین کو مزید تاخیر کے بغیر اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ تیراہ متاثرین کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے واپسی کے حوالے سے باضابطہ اعلان کیا جائے۔

مشران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ متاثرین کب، کس تاریخ سے، کس طریقہ کار کے تحت اور کن راستوں کے ذریعے اپنے آبائی علاقوں میں واپس جا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مبہم اعلانات اور غیر یقینی صورتحال نے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، اس لیے واپسی کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبہ فوری طور پر سامنے لایا جائے۔

تیراہ کے مشران نے کہا کہ متاثرین کی واپسی کے ساتھ ساتھ علاقے میں بنیادی سہولیات کی بحالی بھی ضروری ہے۔ گھروں، سڑکوں، اسکولوں، صحت مراکز، پانی کی فراہمی کے نظام اور دیگر عوامی تنصیبات سے متعلق مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ واپس آنے والے خاندانوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تباہ شدہ گھروں، شہداء اور زخمیوں، کاٹے گئے درختوں، زمینوں اور دیگر نجی نقصانات کے حوالے سے متاثرین کو تیراہ کے مشران کی مشاورت سے مناسب معاوضہ دیا جائے۔ واپس جانے والے خاندانوں کے لیے اعلان کردہ مالی امداد اور دیگر وعدوں پر بھی فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

مشران کا کہنا تھا کہ تیراہ ماضی میں ایک آباد علاقہ تھا جہاں اسکول، صحت مراکز، بازار، سڑکیں اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات موجود تھیں۔ تیراہ کے عوام چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی وطن میں امن، عزت اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

آخر میں تیراہ کے قبائلی مشران اور تحریک متاثرین تیراہ نے صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے دی گئی کلیئرنس کی روشنی میں مزید تاخیر نہ کی جائے اور تیراہ کے متاثرین کی باعزت، محفوظ اور عملی واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مشران نے واضح کیا کہ تیراہ کے عوام اب مبہم وعدوں اور غیر یقینی صورتحال کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا ہوگا کہ متاثرین کی واپسی کب ہوگی، جبکہ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن، واضح شیڈول، عملی منصوبہ اور واپسی کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے