ڈہرکی میں متضاد موقّف: مبینہ زیادتی کی کوشش پر ورثاء کا میڈیا سے رابطہ، مرتضیٰ بھٹو کے اہلیہ و والدہ کی قرآن پر قسم

گھوٹکی ( کیو این این ورلڈ/مشتاق علی لغاری) ڈہرکی کی عظیم کالونی میں ایک کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر بچی کے ورثاء نے میڈیا سے رابطہ کرتے ہوئے انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب الزام کی زد میں آنے والے مرتضیٰ بھٹو کے اہلِ خانہ نے عائد کیے گئے تمام الزامات کو ملائمت کے بغیر مسترد کر دیا ہے۔

بچی کے ورثاء کا مؤقف ہے کہ مرتضیٰ بھٹو نے مبینہ طور پر کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ ورثاء نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور دستیاب شواہد کی روشنی میں حقائق سامنے لائے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الزام ثابت ہو جائے تو ذمہ دار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب مرتضیٰ بھٹو کے اہلِ خانہ، جن میں ان کی اہلیہ اور والدہ شامل ہیں، نے میڈیا کے سامنے آکر الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ دونوں خواتین نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر مرتضیٰ بھٹو پر عائد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا اور بے گناہی کا دعویٰ کیا۔

واقعے کے حوالے سے اس وقت دونوں فریقوں کے شدید متضاد مواقف سامنے آرہے ہیں۔ ایک جانب بچی کے ورثاء الزام عائد کرتے ہوئے انصاف اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مرتضیٰ بھٹو کے اہلِ خانہ اسے بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔

صحافتی اور قانونی اصولوں کے تحت کسی بھی شخص پر عائد الزام کو تحقیقات اور عدالتی فیصلے سے قبل ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے معاملے کی حتمی حقیقت متعلقہ اداروں کی تحقیقات، دستیاب شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ فی الوقت بچی کے ورثاء اور متاثرہ خاندان کی اپیل پر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر غیرجانبدارانہ تحقیقات کریں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے