ملتان (کیو این این ورلڈ)ملتان میں بی سی جی چوک کے قریب قاسم پور نہر کے علاقے میں 36 انچ کی مین سیوریج لائن کی صفائی کے دوران زہریلی گیس بھرنے سے باپ اور بیٹا جاں بحق ہوگئے۔ افسوسناک واقعے میں سیوریج لائن کی صفائی پر مامور دونوں سیور مین گیس کی زد میں آکر بے ہوش ہوئے اور مین ہول میں پھنس گئے۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد اسماعیل اور اس کے بیٹے محمد رمضان کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد اسماعیل واسا کا مستقل ملازم جبکہ اس کا بیٹا محمد رمضان ورک چارج کی بنیاد پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ دونوں قاسم پور نہر کے قریب سیوریج لائن کی صفائی کے کام پر مامور تھے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دونوں افراد رات گئے 36 انچ کی مین سیوریج لائن کی صفائی کے دوران مین ہول میں اترے، جہاں زہریلی گیس بھرنے کے باعث دونوں بے ہوش ہوگئے اور لائن کے اندر پھنس گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائی شروع کی گئی۔
ریسکیو اہلکاروں نے شدید مشکلات کے بعد دونوں افراد کو مین ہول سے نکالا اور فوری طور پر نشتر ہسپتال منتقل کیا، تاہم ڈاکٹروں نے دونوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں افراد سیوریج لائن کی صفائی کے دوران مناسب حفاظتی آلات کے بغیر کام کر رہے تھے۔ واقعے کے وقت واسا کا کوئی افسر بھی موقع پر موجود نہیں تھا، جس کے باعث حفاظتی انتظامات اور نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب واسا حکام نے واقعے سے متعلق مؤقف اختیار کیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں محمد اسماعیل واسا کا مستقل ملازم جبکہ محمد رمضان کنٹریکٹ یا ورک چارج کی بنیاد پر کام کرنے والا ملازم تھا۔ واسا حکام کے مطابق دونوں افراد کو واسا کی جانب سے مذکورہ سیوریج لائن کی صفائی کے لیے کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی اور وہ ذاتی حیثیت میں ایک نجی کنٹریکٹر کی معاونت کے لیے سیوریج لائن میں گئے تھے۔
واساحکام کا کہنا ہے کہ سیوریج کے کام سے قبل تمام ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور کام کے دوران سیفٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے۔ تاہم حادثے کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر دونوں افراد واسا کی براہِ راست ہدایت کے بغیر سیوریج لائن میں داخل ہوئے تو انہیں خطرناک مین ہول میں جانے سے روکنے، حفاظتی انتظامات کی نگرانی اور کام کی اجازت دینے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
واقعے نے سیوریج لائنوں میں کام کرنے والے ملازمین کی حفاظت کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ زہریلی گیسوں سے بھرے مین ہولز میں بغیر حفاظتی سامان اور گیس کی جانچ کے داخل ہونا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ باپ بیٹے کی ایک ہی حادثے میں موت نے نہ صرف ان کے اہلخانہ کو غمزدہ کردیا بلکہ سیوریج ورکرز کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت بھی اجاگر کردی ہے۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ذمہ داروں کے تعین اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد ہی صورتِ حال مزید واضح ہوسکے گی۔