خیبر (کیو این این ورلڈ /بیوروچیف)ضلع کرم کے سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں عمائدین کا نمائندہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی معاوضے کی ادائیگی اور دیگر درپیش مسائل کے حل کا مطالبہ کیا گیا۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما خواجہ ناہید اور دیگر عمائدین نے کہا کہ مناتو اور ملحقہ دیہات کے متاثرین انتہائی تشویشناک حالات سے گزر رہے ہیں، جبکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود انہیں تاحال سرکاری امداد نہیں مل سکی۔
عمائدین کے مطابق سنٹرل کرم کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 1661 عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (TDPs) تمام ضروری سرکاری تصدیقی مراحل اور بائیومیٹرک کا عمل مکمل کرچکے ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مقررہ 25 ہزار روپے مالی معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سرکاری ضابطوں اور تصدیقی عمل کی تکمیل کے باوجود امداد کی عدم فراہمی ان کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
جرگے کے شرکاء نے بتایا کہ سیکیورٹی حالات کے باعث لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے سمیت متعدد دیہات کے مکینوں کو اپنے گھر بار اور آبائی زمینیں چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑی۔ ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کے دوران وہ اپنے اثاثوں اور آمدنی کے ذرائع سے محروم ہوگئے، جس کے باعث موجودہ حالات میں روزمرہ زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔
مقامی عمائدین کے مطابق معاوضے کی طویل تاخیر نے بالخصوص دیہاڑی دار طبقے کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ نقل مکانی کے باعث ان کے روزگار کے تمام ذرائع تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔ بہت سے متاثرہ خاندان اب اپنے رشتہ داروں اور مقامی کمیونٹی کی مالی مدد پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ مسلسل غیر یقینی صورتحال نے متاثرہ آبادی میں شدید ذہنی دباؤ بھی پیدا کردیا ہے۔
متاثرہ رہائشی عبداللہ نے صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ بے گھر خاندانوں کے لیے اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی والدین اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
عمائدین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری، کور کمانڈر پشاور، جی او سی 9 ڈویژن، ایم این اے انجینئر حمید حسین، کمانڈر 73 بریگیڈ اور ڈپٹی کمشنر فہد وزیر سے اپیل کی کہ متاثرہ خاندانوں کے مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے اور تصدیق شدہ متاثرین کے لیے معاوضہ فنڈز بلا تاخیر جاری کیے جائیں۔
جرگے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ امداد کی فراہمی میں ہونے والی تاخیر کی وجوہات بھی واضح کی جائیں، کیونکہ تمام مطلوبہ سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے باوجود متاثرین کو کئی ماہ سے مالی امداد کا انتظار ہے۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ متاثرین مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہوسکتے اور حکومت کو فوری طور پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
عمائدین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات جلد پورے نہ کیے گئے تو متاثرین بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تصدیق شدہ ڈیٹا اور مکمل بائیومیٹرک ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود امداد کی عدم فراہمی سے متاثرہ خاندانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اس لیے صورتحال کو مزید سنگین ہونے سے قبل فوری انتظامی مداخلت ضروری ہے۔
جرگے کے شرکاء نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ سنٹرل کرم کے متاثرہ خاندانوں کو ان کا مقررہ معاوضہ فوری ادا کیا جائے، بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور نقل مکانی کے باعث پیدا ہونے والے دیگر مسائل کے مستقل حل کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
