بانی پی ٹی آئی کے علاج میں ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کو شامل کیا جائے: سہیل آفریدی

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے، جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹر، اہلخانہ اور وکلا سے مشاورت کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

جنید اکبر اور اسد قیصر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹر سے تفصیلی ملاقات کریں گے، جبکہ ڈاکٹر، خاندان اور وکلا سے مشاورت کے بعد آئندہ کے اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ جب بھی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، ان کا بلڈ پریشر نارمل رہا، تاہم سرکاری میڈیکل رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر 140/100 رپورٹ کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری رپورٹ میں بلڈ پریشر 140/100 درج ہے تو اصل صورتحال کتنی تشویشناک ہوسکتی ہے۔

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کے وکلا اور ذاتی ڈاکٹرز کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، جبکہ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کے اہلخانہ اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا تھا تو وہ مکمل طور پر صحت مند تھے، اس لیے اب ان کی خراب صحت کا ذمہ دار کون ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ بارہا مطالبات کے باوجود عدلیہ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق نوٹس نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام کی آخری امید عدلیہ ہے اور اگر ملک کے مقبول ترین لیڈر کو انصاف نہیں ملے گا تو عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائے گا۔

سہیل آفریدی نے عدلیہ سے اپنے کردار پر غور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس سمت جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ انصاف نہیں کرے گی تو عوام انصاف کریں گے، جس کے بعد کسی کے لیے حالات قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت کل ہوگی اور عدلیہ سے ایک بار پھر اپیل کی جائے گی کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ سہیل آفریدی کے مطابق ملاقات اور صحت کی صورتحال سے متعلق اطمینان کے بعد ہی وہ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے