کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹر بشیراحمدبلوچ کی رپورٹ): حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر ہڑتال 40 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر پیش رفت اور یقین دہانیوں کے بعد ہڑتال مؤخر کی گئی ہے، تاہم مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کیا جاسکتا ہے۔
کراچی کے گورنر ہاؤس میں ٹرانسپورٹرز اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ملک شہزاد نے شرکت کی۔
مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ملک شہزاد نے کہا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد ہڑتال 40 دن کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے گزشتہ 9 روز سے ملک گیر ہڑتال جاری تھی۔
ملک شہزاد کے مطابق حکومت سندھ نے پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس حوالے سے 15 دن کا وقت لیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ قیمتوں کا جائزہ 15 دن یا ایک ماہ کے بعد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ٹول ٹیکس میں کمی کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے اور اس حوالے سے نظرثانی کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ 10 وہیلر گاڑیوں کو مناسب وزن کی اجازت دینے پر بھی حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بعض مسائل حل کردیے ہیں جبکہ کچھ مطالبات کابینہ کی سطح پر حل ہونا باقی ہیں، جن کے لیے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ کمیٹیوں کے اجلاس جاری رہیں گے اور امید ہے کہ حکومت اپنی یقین دہانیوں اور وعدوں پر عمل کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہڑتال ختم نہیں کی گئی بلکہ 40 دن کے لیے مؤخر کی گئی ہے۔ اگر یقین دہانیوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو ٹرانسپورٹرز دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے جو مسائل حل طلب تھے، انہیں حل کیا گیا ہے جبکہ بعض مطالبات کے لیے رسمی کارروائیاں مکمل کرنا باقی ہیں، جنہیں پورا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
عبدالعلیم خان نے کراچی، حیدرآباد روڈ کے حوالے سے کہا کہ یہ سڑک کسی بھی طرح موٹروے کہلانے کے قابل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر سے حیدرآباد اور کراچی تک نئی موٹروے کا کام رواں سال شروع کیا جائے گا۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ خطے کی صورتحال غیر معمولی ہے اور ایسے حالات میں مکہ معاہدہ بھی ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے معاشی اثرات صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہتر نتائج کے لیے کوششیں کررہے ہیں تاکہ ان کے مثبت اثرات عوام تک پہنچ سکیں۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز نے ایک دوسرے کا مؤقف سنا اور دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حکومت نے پورا دن معاملات حل کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ سندھ حکومت سے متعلق جو معاملات ہیں، انہیں حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ تمام مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔