مانگٹانوالہ میں زمیندار کے 11 جانور ہلاک، چارے میں زہر ملانے کا الزام، نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے

ننکانہ صاحب (بیورورپورٹ): مانگٹانوالہ کے علاقے میں چند روز کے دوران زمیندار قیصر نواز علی شاہ کے 11 جانور پراسرار طور پر ہلاک ہوگئے، جن میں 8 بھینسیں اور 3 چھوٹے جانور شامل ہیں۔ متاثرہ زمیندار نے مخالفین پر مبینہ طور پر چارے میں زہر ملانے کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ننکانہ صاحب ڈاکٹر خورشید عالم کے مطابق متاثرہ جانور تقریباً 12 ایکڑ پر مشتمل کھلے رقبے میں چر رہے تھے اور اسی دوران وہاں موجود کھڑے پانی سے بھی پانی پی رہے تھے۔ موقع سے کیڑے مار ادویات کے خالی تھیلے بھی ملے ہیں، جس کے باعث جانوروں کی ہلاکت میں کسی زہریلے مادے کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر خورشید عالم کے مطابق ایک تازہ مردہ جانور کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جبکہ خون، سیرم، فضلے، چارے اور پانی کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔ تمام نمونے مزید تجزیے اور حقیقت جاننے کیلئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کے مطابق ان کے علم میں اب تک 8 جانوروں کی ہلاکت سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر جانوروں کی ہلاکت کی وجہ کسی زہریلی دوا یا مادے کے استعمال کا شبہ ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ فرانزک اور لیبارٹری رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

لائیو اسٹاک حکام کے مطابق چار بیمار جانوروں کو فوری طبی امداد فراہم کردی گئی ہے جبکہ ان کی مکمل صحت یابی تک مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ مزید کسی نقصان سے بچایا جاسکے۔

متاثرہ زمیندار قیصر نواز علی شاہ نے الزام عائد کیا کہ مخالفین نے مبینہ طور پر اس کے جانوروں کے چارے میں زہر ملایا، جس کے نتیجے میں اسے لاکھوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ متاثرہ زمیندار نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر زہر دینے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، اس کے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور اسے انصاف فراہم کیا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جانوروں کی ہلاکت کی اصل وجہ فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی حتمی طور پر معلوم ہوسکے گی، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے