قصور(کیو این این ورلڈ/طارق نوید سندھو بیوروچیف) قصور میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو اس کے بنیادی نظریے اور ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔ مقررین نے ملک میں جاری معاشی بدحالی، سیاسی بے یقینی اور مختلف بحرانوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان کا قیام محض زمین کے ایک ٹکڑے کے حصول کیلئے نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد کی تھی۔ نظریۂ پاکستان ہی دراصل پاکستان کی بقا اور سلامتی کی بنیاد ہے، اس لیے ملکی نظام کو اسی نظریے کے مطابق استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پارلیمانی اور صدارتی دونوں نظام آزمائے جا چکے ہیں، تاہم ملک کو درپیش مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کیلئے اب نظامِ اسلام کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ پاکستان کی ترقی، بقا، خوشحالی اور استحکام کیلئے ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے نظام کو عملی طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ آئینِ پاکستان میں اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے جبکہ کتاب و سنت کی بالادستی اور اسلامی اصولوں کو بھی آئینی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر آئین میں موجود اسلامی دفعات پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنا دیا جائے تو پاکستان کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ پاکستان کی حقیقی منزل ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ‘‘ کا نظام ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے تمام سیاسی و مذہبی قیادت کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مسائل کے حل، ملکی خودمختاری کے تحفظ اور عوام کی خوشحالی کیلئے نظریۂ پاکستان سے وابستگی اور اسلامی اصولوں پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کو اس کے نظریاتی تشخص کے مطابق مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کیلئے سیاسی و مذہبی قوتوں کے درمیان اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کو فروغ دیا جائے گا۔