فائرنگ کے واقعے میں ناظم کوش اور گھر کا گارڈ معشوق بھی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔

صادق آباد /گھوٹکی(کیو این این ورلڈ+ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) صادق آباد کے قریب چوک چڑھ کے علاقے میں مسلح افراد نے ایک گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں سردار میر عالمگیر خان کوش، ان کے گارڈ معشوق کوش اور گھر کے مالک یاسین کوش کے بیٹے ناظم کوش جاں بحق ہوگئے، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے چوک چڑھ کے علاقے میں واقع ایک گھر کو نشانہ بنایا اور اندر داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔ پولیس نے جاں بحق افراد کی لاشیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل اسپتال صادق آباد منتقل کردیں۔

پولیس حکام کے مطابق سردار میر عالمگیر خان کوش نے کچہ سرنڈر پالیسی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جبکہ پولیس کے مطابق ان کے سر کی قیمت بھی 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔ تاہم واقعے کے محرکات اور حملے کے پسِ پردہ وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور کارروائی جاری ہے۔

تین افراد کے قتل کے بعد جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں میں شدید غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے اصل محرکات، حملہ آوروں کی شناخت اور فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے