ننکانہ صاحب(کیو این این ورلڈ/بیوروچیف احسان اللہ ایاز) تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی حدود میں خاتون کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب عبدالحفیظ بھٹہ نے مبینہ غیر قانونی حراست میں رکھی گئی خاتون کو عدالتی بیلف کے ذریعے تھانے سے برآمد کرائے جانے کے بعد ڈی پی او ننکانہ صاحب کو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف تین روز کے اندر مقدمہ درج کرنے اور کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر سے معاملے کی تفتیش کرانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق صدیق کالونی کی رہائشی شمیم بی بی نے اپنی جواں سال بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر حسین کو پولیس کی مبینہ غیر قانونی حراست میں رکھنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ 31 جولائی کو صبح تقریباً 9 بجے ایس ایچ او آصف اقبال مبینہ طور پر کانسٹیبلان ظہیر احمد، کاشف اور دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کی بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر حسین کو اپنے ساتھ لے گئے۔
درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ شکیلہ پروین کو خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے بغیر تھانے میں رکھا گیا جبکہ اہل خانہ سے مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے عدالت نے عدالتی بیلف مقرر کیا، جس نے تھانہ صدر ننکانہ صاحب پہنچ کر ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران تھانے کے رجسٹر میں شکیلہ پروین کی گرفتاری یا کسی مقدمے کے تحت حراست کا کوئی اندراج موجود نہیں تھا۔
عدالتی بیلف کی کارروائی کے دوران شکیلہ پروین کو مبینہ طور پر تھانے کے ایک ایسے کمرے سے برآمد کیا گیا جو ایس ایس آئی او یونٹ کے تفتیشی عملے کے دفتر سے منسلک اور خواتین ملزمان کی تفتیش کے لیے مختص بتایا گیا ہے۔ شکیلہ پروین نے عدالتی بیلف کے سامنے بیان دیا کہ اسے تقریباً 24 گھنٹے سے زائد عرصے سے تھانے میں رکھا گیا تھا۔

تاہم درخواست گزار کا بیٹا مدثر حسین تاحال برآمد نہ ہوسکا۔ دوسری جانب مقامی پولیس نے عدالت میں تحریری مؤقف اختیار کیا کہ شکیلہ پروین کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود کمرے میں آکر بیٹھی ہوئی تھی۔
عدالت نے پولیس کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالتی حکم کے مطابق پولیس کو اپنے مؤقف کی تصدیق کے لیے تھانے کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ پیش کرنے کا مکمل موقع دیا گیا، تاہم پولیس ایسا ثبوت عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی جو اس کے مکمل اختیار میں تھا۔
عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ننکانہ صاحب کو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف تین روز کے اندر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تفتیش کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر سے کرانے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائی جاسکیں۔

عدالتی حکم میں ڈی پی او ننکانہ صاحب کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ 31 جولائی سے یکم اگست تک تھانہ صدر ننکانہ صاحب کا تمام متعلقہ دستاویزی اور الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ کیا جائے، جبکہ معاملے کی تفتیش 14 روز کے اندر مکمل کرکے جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ کسی بھی خاتون کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ معاملے میں پولیس کے اختیارات کے استعمال، چادر اور چار دیواری کے تقدس اور شہری آزادیوں سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
واقعے نے ضلع ننکانہ صاحب میں انسانی حقوق اور پولیس اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر تشویش پیدا کردی ہے۔ بالخصوص خواتین کے تحفظ، وقار اور بنیادی حقوق کے حوالے سے حکومتی دعووں کے تناظر میں ایک خاتون کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
