پیپلز پارٹی کی سکرنڈ میں احتجاجی ریلی، سندھ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

سکرنڈ (کیو این این ورلڈ/نور محمد جتوئی)سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور سندھ کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سکرنڈ میں "مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں” کے عنوان سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا آغاز لاکھا ہاؤس سے ہوا اور مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی سینما چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔

ریلی کا انعقاد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کال پر کیا گیا، جس میں پیپلز پارٹی تحصیل سکرنڈ اور سٹی سکرنڈ کے عہدیداران، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پارٹی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ "مرجائیں گے مرجائیں گے سندھ نہیں دیں گے”، "ہم سندھ تقسیم نہیں ہونے دیں گے” اور سندھ کے حقوق کے حق میں دیگر نعرے بھی لگائے گئے۔

ریلی کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل سکرنڈ کے صدر حاجی الہٰ بخش لاکھو، سٹی صدر عزیر اختر شاہ، ہالر جمالی، سید علی حیدر شاہ، کاشف سیال اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے حقوق، وسائل اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی اور سندھ کے مفادات کے خلاف کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

مقررین نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ بھر میں یکجہتی سندھ کے اظہار کے لیے ریلیاں اور اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پاکستان کی بقا، زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے اور اس کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔

رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کے خطے کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ اگر سندھ کی وحدت، حقوق اور پانی کے حصے پر کسی قسم کی دست درازی کی گئی یا پانی کی چوری کا سلسلہ نہ روکا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور احتجاج کرے گی اور ہر فورم پر سندھ کے عوام کی آواز بنے گی۔

ریلی کے اختتام پر سندھ کے حقوق، قومی یکجہتی اور ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے