گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار: مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو کے علاقے دبئی ہوٹل کے قریب رہائشی مویشی پال بشیر احمد شر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مویشیوں میں وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود متعلقہ سرکاری ویٹرنری عملے کی جانب سے بروقت ویکسینیشن نہ کیے جانے کے باعث ان کا ایک قیمتی جانور ہلاک ہو گیا، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
بشیر احمد شر کے مطابق وہ گزشتہ پندرہ روز سے اوباڑو، میرپور ماتھیلو اور متعلقہ محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام سے مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے متعدد بار جانوروں میں وائرس پھیلنے کی اطلاع دیتے ہوئے فوری ویکسینیشن، طبی معائنہ اور علاج کی درخواست کی، تاہم ان کے بقول ان کی شکایات پر بروقت مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کے قیمتی جانور کی جان چلی گئی۔
متاثرہ مویشی پال نے وزیرِ لائیو اسٹاک سندھ، سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک، کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر گھوٹکی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ غفلت کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرا کر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دوسری جانب ضلع گھوٹکی کے دیگر مویشی پال افراد نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک گھوٹکی سمیت اوباڑو، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی اور جروار کے فیلڈ عملے سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں ہنگامی بنیادوں پر مفت ویکسینیشن مہم اور ویٹرنری میڈیکل کیمپ لگائے جائیں۔
مویشی پالوں کا مزید کہنا تھا کہ گھوٹکی، خانپور مہر، خان گڑھ، رونتی، یارو لنڈ، عادل پور، دولت پور، کھینجو اور جھنڈو سمیت تمام شہری و دیہی علاقوں میں موبائل ویٹرنری ٹیمیں روانہ کی جائیں تاکہ ادویات کی فراہمی اور متاثرہ جانوروں کا طبی معائنہ یقینی بنا کر بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے۔