ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز) گورو بازار ننکانہ صاحب میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی آڑ میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے اہلکاروں نے ظلم کی انتہا کر دی، جہاں ایک مقامی دکاندار کو سرِعام وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہر بھر کے تاجروں، شہریوں اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ دوڑ گیا ہے اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ دکاندار شان جعفر نے آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ اس کی موبائل شاپ کے سامنے ایک ریڑھی کھڑی تھی، جس کا مالک قریبی مسجد میں نماز ادا کرنے گیا ہوا تھا۔ دکاندار نے جب اپنے طور پر اس ریڑھی کو دکان کے سامنے سے ہٹانے کی کوشش کی، تو وہاں موجود پیرا فورس کے اہلکار آپے سے باہر ہو گئے اور دکاندار پر پٹائی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔
انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ سرکاری وردی میں ملبوس اہلکاروں نے نہ صرف قانون ہاتھ میں لیا بلکہ واقعے کی ویڈیو بنانے والے ایک شہری پر بھی جھپٹ پڑے اور اس کا موبائل فون زبردستی چھین کر اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کی گئی، مگر پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی بااثر اہلکار موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
متاثرہ دکاندار نے پیرا فورس کے ظالم اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے تھانہ سٹی ننکانہ صاحب میں تحریری درخواست جمع کرا دی ہے۔ انجمن تاجران اور عوامی حلقوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو شہریوں پر تشدد کا کوئی حق نہیں، اگر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو تاجر برادری سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔
شہریوں اور تاجر تنظیموں نے ڈپٹی کمشنر رعنا حمید سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیں، پیرا فورس کے اہلکاروں کے خلاف اغواِ فون اور اقدامِ تشدد کا مقدمہ درج کروا کر واقعے کی شفاف انکوائری کرائیں اور غریب دکاندار کو انصاف فراہم کریں۔