گندم کی ناجائز ذخیرہ اندوزی برداشت نہیں، اسسٹنٹ کمشنر کا دوٹوک مؤقف

کندھ کوٹ (کیو این این ورلڈ/وقار احمد اعوان) قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خفیہ اطلاعات پر اسسٹنٹ کمشنر کندھکوٹ زرار احمد خاصخیلی نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی گندم برآمد کر کے محکمہ خوراک کے حوالے کر دی۔

تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کندھکوٹ زرار احمد خاصخیلی نے ضلعی فوڈ کنٹرولر اور متعلقہ عملے کے ہمراہ تحصیل کندھکوٹ کے مختلف مقامات پر اچانک چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران ایک گودام سے بڑی مقدار میں گندم برآمد ہوئی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی تھی۔

انتظامیہ کے مطابق چھاپے کے وقت گودام کا مالک موقع پر موجود نہیں تھا اور نہ ہی گندم کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے گودام میں موجود گندم اپنی تحویل میں لے لی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے کندھکوٹ پی آر سی (PRC) میں محکمہ خوراک کے حکام کے حوالے کر دیا۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر زرار احمد خاصخیلی نے کہا کہ یہ کارروائی حکومت سندھ کی ہدایات اور گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری پالیسی کے تحت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے تحصیل کندھکوٹ کے لیے مقرر کردہ گندم خریداری کا ہدف مکمل ہونے تک ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی گندم کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیر قانونی خرید و فروخت، بغیر لائسنس کاروبار، ناجائز منافع خوری اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ضلعی فوڈ کنٹرولر نے اس موقع پر کہا کہ فلور ملوں، گندم کے گوداموں اور متعلقہ کاروباری مراکز کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی، شفافیت اور حکومتی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے