ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/احسان اللہ ایاز) شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کی تکمیل نہ ہونے اور کھدائی شدہ خندقوں کو کھلا چھوڑ دیے جانے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے اور مکانات و دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کے عقب، ہاؤسنگ کالونی روڈ کی گلیوں اور شہر کے دیگر علاقوں میں نئی سوئی گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے کھدائی کی گئی تھی، تاہم منصوبے پر کام کرنے والا ٹھیکیدار خندقوں میں مٹی ڈالنے اور کھدائی شدہ مقامات کو ہموار کرنے کا کام مکمل کیے بغیر ہی چلا گیا۔ اس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر گہری خندقیں بدستور کھلی پڑی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حالیہ بارشوں سے ان خندقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے، جس کے باعث زمین نرم اور کمزور ہو چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر زمین دھنسنے کے آثار نمایاں ہیں، جس سے قریبی مکانات، دیواروں اور دیگر تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طور پر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلی خندقیں نہ صرف بارشوں کے دوران خطرناک ثابت ہو رہی ہیں بلکہ آمدورفت میں بھی شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
گیس صارفین اور علاقہ مکینوں نے محکمہ سوئی گیس کے اعلیٰ حکام اور ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، منصوبے کی تکمیل میں غفلت برتنے والے ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کی جائے اور تمام کھدائی شدہ مقامات کو فوری طور پر مٹی ڈال کر ہموار اور محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ ادارے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے اور ادھورے منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرایا جائے گا۔